سندھ ہائی کورٹ ، لاپتہ افراد بازیابی سے متعلق درخواستوں پر پھر وفاقی اور کے پی کے حکومت سے حراستی مراکز میں قید ملزمان کی فہرست طلب

جمعرات فروری 20:41

سندھ ہائی کورٹ ، لاپتہ افراد بازیابی سے متعلق درخواستوں پر پھر وفاقی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2017ء) سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد بازیابی سے متعلق درخواستوں پر ایک بار پھر وفاقی اور کے پی کے حکومت سے حراستی مراکز میں قید ملزمان کی فہرست مانگ لی۔۔سندھ ہائی کورٹ میں 140 سے زائد افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی عدالت نے سندھ پولیس کے افسران اور وفاقی حکومت کی کارگردگی پراظہار تشویش کیا، اس موقع پر جسٹس فاروق شاہ نے ریمارکس دئیے کراچی میں خطرناک لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال چھوڑ کر پولیس افسران عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔

مگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کرتے ہم پولیس افسران کو مساج کرانے یا چائے پلانے کے لیے نہیں بلاتے ہمیں بس لاپتہ افراد کے بارے میں بتایاجا ئے کہ وہ کہاں ہیں۔

(جاری ہے)

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا نے سماعت کے دوران سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کب تک جے آئی ٹی اور صوبائی ٹاسک فورس کا کھیل کھیلا جائے گا۔

عدالت کی جانب سے ایم کیو ایم کے لاپتہ 9کارکنان کا تذکرہ کیا تو اسٹینڈنگ کونسل نے بیان دیتے ہوئے کہا لاپتہ ایم کیوایم کارکن فہیم ریاض گھر واپس آگئے ہیں جس پر عدالت نے حکومت کے غیر سنجیدہ رویے پر کہا کہ میڈیا تب تک شور مچاتا ہے جب تک لوگ لاپتہ ہوتے ہیں حکومت گھر واپس آنے والوں کا نہیں بتائے گی تو کیسے پتہ چلے گا کیس کی مزید سماعت9 فروری تک ملتوی کردی گئی ہیں۔

متعلقہ عنوان :