2017-18 ء میں چینی کی عالمی پیداوار 3.5 ملین ٹن فاضل رہنے کی توقع ہے،سکڈن

اتوار جولائی 13:20

لندن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جولائی2017ء) برطانیہ کے مالیاتی و تجارتی ادارے ’’ سکڈن‘‘ نے کہا ہے کہ سیزن 2017-18 ء کے دوران چینی کی عالمی پیداوار 3.5 ملین ٹن فاضل رہنے کی توقع ہے۔ بر طانوی میڈیا نے ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ کے حوالہ سے بتایا کہ آئندہ سیزن کے دوران چینی کی مجموعی عالمی پیداوار 183 ملین ٹن رہنے کی توقع ہے جو گزشتہ سال کی نسبت 9 ملین ٹن زیادہ ہوگی۔

چینی کے زیادہ پیداواری علاقے یورپی یونین، بھارت، تھائی لینڈ اور چین ہوں گے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اضافی پیداوار کے ساتھ ساتھ چینی کی عالمی طلب بھی قریبا 2.5 ملین ٹن (1.4 فیصد) اضافے کے ساتھ 180 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی جس کی وجہ بالخصوص اس کی چین اور بھارت جیسے ملکوں میں بڑھتی ضروریات ہیں۔چینی کی سب سے زیادہ پیداوار برازیل میں 34.9 ملین ٹن رہنے کی توقع ہے جو گزشتہ سیزن کی پیداوار (35.6 ملین ٹن ) سے کچھ کم ہوگی۔بھارت میں مون سون کے دوران کماد کے پیداوار علاقوں میں اگر بارشیں مناسب اور وقت پر رہیں تو ملک کی چینی کی پیداوار 24.5 ملین ٹن تک رہنے کا امکان ہے۔یورپی خطے میں چینی کی پیداوار 18.3 ملین ٹن جبکہ جنس کی برآمد 2.7 ملین ٹن رہنے کی توقع ہے۔