قطری شہزادے کی گواہی کے بغیرجے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہیں ہو گی ، تمام آڈیو و ویڈیو کارروائی کو منظر عام پر لایا جائے ، وفاقی وزراء

قطری خط کی تصدیق نہ ہوئی تواس کو فکس فائٹ کہیں گے،ارسلان افتخار کے کیس میں ارسلان کوبلایاگیاتھا اس کے والد کونہیں،نہ ہی کسی کوجرات تھی،مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات میں سے زیادہ ووٹ لیے، ہمارا اثاثہ ووٹرز ہیں لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاناما اسکینڈل کے ذریعے انہیں ہم سے چھینا جارہا ہے سول ملٹری تعلقات ایک پیچ پر ہیں ، سیاسی و عسکری قیادت نے بڑے تدبر سے تعلقات میں توازن پیدا کیا ہے سیاسی لوگ ہی قانون کااحترام کرنے والے ہیں،بے نظیرقتل کیس میں سیگل سے بیرون ملک کاروائی کی گئی، مافیااور گارڈفادرکے ادوار میں عدالتیں نہیں لگتیں،بادشاہ عمران خان کی طرح عدالت کاسامنانہیں کرتا، عمران خان خود کو مسٹر کلین سمجھتے ہیں، وہ ہم سے 40 سال کی تلاشی مانگ رہے ہیں مگر خود 4 سال کی تلاشی بھی نہیں دے رہے، وہ کرپشن کے مگرمچھوں کو پالنے والے لیڈر ہیں،وفاقی وزرائ شاہد خاقان عباسی ، سعد رفیق ، احسن اقبال اور خواجہ آصف کی مشترکہ پریس کانفرنس

ہفتہ جولائی 22:28

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جولائی2017ء) وفاقی حکومت نے اعلان کیاہے کہ قطری شہزادے کی گواہی کے بغیر پانامہ کیس کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہیں ،قطری خط کی تصدیق نہ ہوئی تواس کو فکس فائٹ کہیں گے،جے آئی ٹی شریف فیملی کی تمام آڈیو،ویڈیوکاروائی جاری کرے،،ارسلان افتخار کے کیس میں ارسلان کوبلایاگیاتھا اس کے والد کونہیں،نہ ہی کسی کوجرات تھی،سیاسی لوگ ہی قانون کااحترام کرنے والے ہیں،بے نظیرقتل کیس میں سیگل سے بیرون ملک کاروائی کی گئی، مافیااور گارڈفادرکے ادوار میں عدالتیں نہیں لگتیں،بادشاہ عمران خان کی طرح عدالت کاسامنانہیں کرتا۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزرائ شاہد خاقان عباسی ، خواجہ سعد رفیق ، احسن اقبال اور خواجہ آصف نے ہفتہ کو پی آئی ڈی یمں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ وزیراعظم استثنیٰ لے سکتے تھے لیکن نہیں لیا۔بلکہ احتساب کیلئے پیش کیا۔وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے ساتھ بھرپورتعاون کیا۔اور تمام ثبوت عدالت میں پیش کیے۔

جے آئی ٹی کے تمام سوالات کاجواب دیا۔ ہمارے معاشرے میں تفتیش میں خواتین کے پیش ہونے کی روایت نہیں ہے۔لیکن مریم نوازپیش ہوئیں۔جے آئی ٹی بننے کے بعد شکوک وشبہات پیداہوئے اورجے آئی ٹی پربہت سے سوالات اٹھے۔99ئ میں بھی وزیراعظم کامکمل احتساب کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ عدالتوں کے پاس سوموٹوپاور زہیں۔وہ کسی وقت بھی کہہ سکتے ہیں کہ تمام شواہد پیش کیے جائیں۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ممبران نے تحقیقات کے لئے درست طریقہ اختیار نہیں کیا۔ جے آئی ٹی میں وزیر اعظم اور ان کے خاندان سے جس انداز سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔اس کی سی ڈیز ریلیز کی جائیں اور عوام کو اس بارے میں بتایا جائے۔ قطری شہزادے کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا ، حالانکہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں بیرون ملک جاکر ثبوت اکٹھے کئے گئے۔

مارک سیگل اور مشرف سمیت کئی ایسے واقعات ہیں جن میں جے آئی ٹی نے بیرون ملک کا کر ثبوت اکٹھے کئے تھے۔ یہ ملک کے منتخب وزیر اعظم ہی ہیں جنہوں نے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا ، سب سے بڑی عدالت عوام کی عدالت ہے ، جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے کو بچانے کے لئے احادیث کا حوالہ دیا جاتا رہا۔انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ قوم کو حساب دینگے آپ طلاق یافتہ بیویاں کیسے پیسے بھجواتی ہیں۔

جن ممالک میں پانامہ کا جرم سرزد ہوا تھا وہاں پر کوئی آڈٹ رپورٹ نہیں آئی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔ عمران خان صاحب آپ زکوة کے پیسوں کا حساب تو دے دیں۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات میں سے زیادہ ووٹ لیے، ہمارا اثاثہ ووٹرز ہیں لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاناما اسکینڈل کے ذریعے انہیں ہم سے چھینا جارہا ہے۔

‘انہوں نے کہا کہ ’مخالفین فاضل عدالت کے ججز کے ریمارکس کو ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں، مخالفین فاضل ججز کے ریمارکس کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور اس سے مسلم لیگ (ن) کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’پاناما جے آئی ٹی کی تشکیل شروع دن سے متنازع رہی ہے، جے آئی ٹی کے ایک رکن مشرف دور میں نیب میں تھے، اس نے تسلیم کیا کہ حسین نواز کی تصویر ان سے لیک ہوئی، جے آئی ٹی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت کس نے دی کس قانون کے تحت وزیراعظم ہاؤس کے فون ٹیپ کیے گئی ‘وزیر ریلوے نے کہا کہ ’جے آئی ٹی کے حوالے سے بہت سے سوالات ہیں، صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ ہمیں انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا، جبکہ سب کو سوچنا چاہیے ملک کو کس نہج پر لے جایا جارہا ہے۔

‘وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا کہ ’عوام نے 2013 میں مسلم لیگ (ن) کو مینڈیٹ دیا، ایک لیڈر الیکشن سے پہلے خود کو وزیر اعظم سمجھتا تھا لیکن وزارت عظمیٰ کا خواب ٹوٹنے پر اس نے سازشیں شروع کردیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’دھرنا ون اور ٹو کا مقصد حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کو روکنا تھا، دھرنوں کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو روک کر انتخابات کا ماحول بنانا تھا لیکن ہر سازش کو پاکستان کے عوام نے ناکام بنایا۔

‘ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچا، اسٹاک مارکیٹ میں مندی آئی لیکن آج تک وزیر اعظم پر کرپشن کا ایک کیس بھی ثابت نہیں ہوا، جبکہ (ن) لیگ کے خلاف بد عنوانی کا کوئی بھی کیس ہو تو سامنے لایا جائے۔‘احسن اقبال نے کہا کہ ’عمران خان خود کو مسٹر کلین سمجھتے ہیں، وہ ہم سے 40 سال کی تلاشی مانگ رہے ہیں مگر خود 4 سال کی تلاشی بھی نہیں دے رہے، وہ کرپشن کے مگرمچھوں کو پالنے والے لیڈر ہیں، ہمارا احتساب پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے دور میں بھی ہوا مگر کچھ ثابت نہیں ہوا، عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے دروازے بند ہوچکے ہیں اور ہم سیاسی ڈرامے کے ذریعے ملک کی ترقی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘۔

Your Thoughts and Comments