افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں،طالبان کا اہم رہنما نعمت اللہ عرف زرقاوی مارا گیا

فضائی کاروائی میں داعش کا سینئر رہنما اور جیلوں کا انچارج عزت اللہ ہلاک صوبہ بلغ کے گورنرکی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 50افراد کے قتل پر سیکورٹی اداروں پر شدید تنقید ،واقعہ باصلاحیت سیکورٹی حکام کی کمی اور غفلت کے باعث پیش آیا،سیکورٹی کے شعبے میں اصلاحات کا مطالبہ کردیا طالبان اور داعش کے درجنوں جنگجوئوں نے مقامی پولیس کو شکست دینے کے بعد قتل عام کیا، طالبان باغیوں نے مشترکہ کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ،افغان حکام سی آئی اے چیف کے گزشتہ ہفتے دورہ کابل کا انکشاف، افغان حکام سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

پیر اگست 18:33

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اگست2017ء) افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑ پوں میں طالبان کا اہم رہنما نعمت اللہ عرف زرقاوی مارا گیا جبکہ فضائی کاروائی میں داعش کا سینئر رہنما اور جیلوں کا انچارج عزت اللہ ہلاک ہوگیا،ادھر شمالی صوبہ بلغ کے گورنر اور جماعت اسلامی پارٹی کے چیف ایگزیکٹو نے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 50افراد کو بے دردی سے قتل کرنے کے واقعے پر سیکورٹی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ باصلاحیت سیکورٹی حکام کی کمی اور غفلت کے باعث پیش آیا،سیکورٹی کے شعبے میں اصلاحات ضرروری ہیں،دوسری جانب چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے کابل کا دورہ کرکے افغان حکام سے ملاقاتیں کی ہیں جس میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

(جاری ہے)

پیر کو افغان میڈیا کے مطابق مشرقی صوبہ ننگرہار میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے نتیجے میں طالبان کا اہم رہنما زرقاوی ہلاک ہوگیا۔صوبائی حکومت کے میڈیا آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں ایک روز قبل ضلع کھوگیانی میں ہوئیں جس میں دونوں اطراف میں جانی نقصان ہوا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جھڑپوں میں 2طالبان جن میں ایک اہم طالبان رہنما جس کی شناخت نعمت اللہ عرف زرقاوی کے نام سے ہوئی ہے مارے گئے ۔

جھڑپوں میں 2طالبان زخمی بھی ہوئے ۔جھڑپ صبح سات بجے ضلع کھوگیانی کے علاقے حکیم آباد میں ہوئی ۔صوبائی حکام کا کہنا تھاکہ جھڑپ میں افغان نیشنل آرمی کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوگیا۔ادھر مشرقی صوبہ کنڑ میں فضائی حملے میں داعش کا سینئر رہنما اور جیلوں کا انچارج مارا گیا۔افغان نیشنل آرمی کی201 ویں صلیب کور کا کہنا ہے کہ داعش رہنما عزت اللہ ضلع چھپا دارا میں فضائی کاروائی کے دوران مار اگیا۔

صلیب کور کے حکام نے بتایاکہ فضائی کاروائی میں داعش کے 2جنگجو ہلاک اور 3دیگر زخمی ہوئے ۔حکام نے یہ نہیں بتایاکہ فضائی کاروائی افغان ایئرفورس کی طرف سے کی گئی یا امریکی فوج نے کاروائی میں حصہ لیا۔یادر رہے کہ افغان اور امریکی فورسز باقاعدگی کے ساتھ عسکریت پسند گروپوں کے خلاف آپریشنز اور فضائی کاروائیاں کررہے ہیں۔امریکی فورسز نے گزشتہ ماہ ایک فضائی حملے میں داعش کے چار سینئر مشیر وں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی ۔

شمالی صوبہ بلغ کے گورنر اور جماعت اسلامی پارٹی کے چیف ایگزیکٹو نے شمالی افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 50افراد کو بے دردی سے قتل کرنے کے واقعے پر سیکورٹی اداروں پر تنقید کی ہے ۔شمالی صوبہ بلغ میں شہریوں کے قتل عام کے بعد اپنے ایک بیان میں نور نے کہاکہ باصلاحیت سیکورٹی حکام کی کمی اور غفلت کے باعث حملے کا جواب دینے میں ناکامی ہوئی جس کے نتیجے میں ضلع صیاد میں 50افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا ۔

نور نے ایک بار پھر سیکورٹی کے شعبے میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی صورتحال کو صرف اصلاحات کے ذریعے ہی بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔یادرے رہے کہ گزشتہ روز افغانستان میں فعال طالبان باغیوں اور داعش کے جنگجوں نے مل کر 50 سے زائد افراد کا قتل عام کیا ہے۔ حکام نے پیر کے دن بتایا کہ یہ واقعہ سر پل صوبے کے سید نامی ایک ضلع میں ہفتے کے دن رونما ہوا۔

بتایا گیا ہے کہ ہلاک کیے جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق طالبان اور داعش کے درجنوں جنگجوں نے مقامی پولیس کو شکست دینے کے بعد یہ قتل عام کیا۔ طالبان باغیوں نے اس مشترکہ کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔دوسری جانب چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے کابل کا دورہ کیا ہے ۔

عبداللہ عبداللہ نے کابل میں کونسل کے وزراء کے اجلاس میں آگاہ کیاکہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے کابل کا دورہ کرکے افغان حکام سے ملاقات اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔عبداللہ عبداللہ نے مزید کہاکہ سی آئی اے سربراہ نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔