پاکستان اور کوریا کے درمیان تعلقات مستحکم بنانے کیلئے پارلیمانی وفود کے تبادلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، سردار ایاز صادق

کشمیر کے پر ا من حل پر یقین ،خطے میں امن اور سیکورٹی چاہتے ہیں ،عالمی برادری کو کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقو قی کی خلاف ورزیوں ،بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے،سی پیک خطے کی بے مثال تر قی کے لیے ایک مشترکہ خواب کا اظہار ہے،،سپیکر قومی اسمبلی کی کوریا کی قومی اسمبلی کے سپیکر سے گفتگو

پیر اگست 19:37

پاکستان اور کوریا کے درمیان تعلقات مستحکم بنانے کیلئے پارلیمانی وفود ..
اسلا م آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اگست2017ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان جمہوریہ کوریا کے ساتھ جامع اور پائیدار تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جمہوریہ کوریا کے ٹیکنالوجی اورمینوفیکچرنگ کے شعبوں کے خصوصی مہارت کے لیے ایک پر کشش مارکیٹ ثابت ہو سکتا ہے ۔انہوں نے ا ن خیالات کا اظہار پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں جمہوریہ کوریاکی قومی اسمبلی کے سپیکر Mr. Chung Sye-Kyun سے اپنی ہونے والی ملاقات میں کیا ۔

اس موقع پر پاک کوریا فرینڈ شپ گروپ کے کنوینر قیصر احمد شیخ بھی موجود تھے ملاقات میں پاکستان اور کوریا کے پارلیمانی واقتصادی تعلقات سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ سر دار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور کوریاکی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مہارت کے لیے مشترکہ تعاون کے منصوبوں کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی رابطوں پر یقین رکھتا ہے اور پاکستان کے اسٹرٹیجک تر جیحات میںکوریا کو انتہائی اہمیت حاصل ہے ۔انہوں نے اپنے کورین ہم منصب کو پاکستانی مصنوعات کی کورین منڈیوں تک رسائی میں کردار ادا کرنے کے لیے کہا اور یقین دلایا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سر مایہ کاروں اور نجی شعبے کے مابین مسلسل رابطے ، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ دوطر فہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے پر ا من حل پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں امن اور سیکورٹی چاہتا ہے۔ کیوں کہ امن کا قیام خطے کی تر قی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے ۔

انہوں نے عالمی برادری پر کشمیر میں ہونے والی انسانی حقو قی کی خلاف ورزیوں اور بگڑتی ہوئی صورت حال کا نوٹس لینے کی ضرورت پر زور دیا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم وستم کی اعلی سطح پر مذمت کرنے کے لیے کہا ۔پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا خطے کی تر قی میں گیم چینجرمنصوبے کی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ خطے کی بے مثال تر قی کے لیے ایک مشترکہ خواب کا اظہار ہے۔

انہوںنے کہا کہ پا کستان کی پارلیمان دو طر فہ تعلقات کو نئی سمت دینے اور مستحکم بنانے کے لیے پر عزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پارلیمانوں میں قائم فرینڈ شپ گروپس پارلیمانی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی وفود کے تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ کوریا کی قومی اسمبلی کے سپیکر Mr. Chung Sye-Kyun نے پاکستان کی طر ف سے کوریا کے ساتھ دوستی کے جذبات کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک میں تجارت کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

انہوں نے کہا کہ کوریا پاکستان کے ساتھ تجارت، اقتصادی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہشمند ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان زراعت ،قدرتی وسائل اور تیزی سے تر قی پذیر معیشیت کی وجہ سے کوریا کے سر مایہ کاروں کے لیے انتہائی پر کشش ملک ہے ۔انہوں نے سپیکر کو کوریا کی قیادت کی طر ف سے دوطر فہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا یقین دلایا ۔مہمان سپیکر نے قومی اسمبلی میں رکھی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے اور پارلیمنٹ ہائوس کے سبزہ زار میں پودا لگا یا ۔بعدازاںوفد نے قومی اسمبلی ہال کا دورہ بھی کیا ۔