کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرکے بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے مقامی ہونے کے تاثر کو زائل کرنا چاہتا ہے‘ ایل او سی پر یکم جنوری 2013ء سے اب تک بھارتی فائرنگ سے 66 شہری شہید ہوئے‘ یکم نومبر 2016ء سے اب تک بھارت کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر سیزفائر کی 319 خلاف ورزیاں کی گئیں

وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان کا قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اظہارخیال

پیر اگست 19:22

کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرکے بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہونے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اگست2017ء) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرکے بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے مقامی ہونے کے تاثر کو زائل کرنا چاہتا ہے‘ ایل او سی پر یکم جنوری 2013ء سے اب تک بھارتی فائرنگ سے 66 شہری شہید ہوئے‘ یکم نومبر 2016ء سے اب تک بھارت کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر سیزفائر کی 319 خلاف ورزیاں کی گئیں‘ گزشتہ دنوں پاکستان کی پارلیمان میں نئے قائد ایوان کے انتخاب سے دنیا کو یہ پیغام گیا ہے کہ اس ملک میں حالات کیسے بھی ہوں آئین و قانون کی عملداری رہے گی۔

پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران خالدہ منصور کے سوال کے جواب میں وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی پر پاک فوج کی جانب سے فوری جواب دیا جاتا ہے‘ پاکستان پہل نہیں کرتا۔

(جاری ہے)

بھارت کشمیر کی جدوجہد آزادی کے اندرونی عنصر زائل کرنا چاہتا ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل او سی پر بسنے والوں کو تحفظ کا احساس دلانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر اس پارلیمان کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ پارلیمان ہماری عظمت کا نشان ہے۔ فورسز سیز فائر کی خلاف ورزی کا جواب دیتی ہیں۔ چند روز قبل ایوان میں جو جمہوری عمل ہوا یہ دنیا کے لئے پیغام ہے کہ اس ملک میں حالات کیسے ہوں آئین و قانون کی عملداری ہے۔