روزہ ایشین میڈیا ورکشاپ اور میڈیا کوآپریشن فورم 2017ء کا آغاز ہوگیا

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے پوری دنیا کے لوگوں کی اقتصادی ترقی و خوشحالی پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے چینی ادارے سی او سی آئی ریسرچ لمیٹڈ کے چیئرمین ڈاکٹر یوان زینگ کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر ایشیئن میڈیا ورکشاپ اور میڈیا کارپوریشن فورم کے موقع پر لیکچر

پیر ستمبر 21:02

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 ستمبر2017ء) 15 روزہ ایشین میڈیا ورکشاپ اور میڈیا کوآپریشن فورم 2017ء کا آغاز ہوگیا۔فورم کے دوران صبح اور شام کے اجلاسوں کے ساتھ ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین کی اقتصادی اصلاحات پر سیمینار بھی جاری ہیں ،ْورکشاپ میں 25 ایشیائی ممالک سے ذرائع ابلاغ سے وابستہ نمایاں شخصیات شریک ہیں۔ چینی حکمران جماعت کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کی سنٹرل کمیٹی کے کوآرڈینشن بیورو اور فارن افیئر کے سربراہ یوجن ہوا نے کہا کہ چین کے صدر جن پنگ کی طرف سے 2013ء میں پیش کیا گیا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو یورپی اور ایشیائی ممالک کے درمیان روابط اور تعاون پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

اس کی بنیادی حکمت عملی عالمی امور میں چین کے زیادہ بڑے کردار اور چین بطور مرکز کے ایک تجارتی نیٹ ورک کے گرد گھومتی ہے۔

(جاری ہے)

یہ منصوبہ جغرافیائی طور پر 6راہداریوں اور سلک روڈ کے بحری راستے پر مشتمل ہے اور توقع ہے کہ اس پر عملدرآمد کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں پایا جانے والا انفراسٹرکچر گیپ دور ہوگا اور ایشیاء اور بحرالکاہل کے خطے کے ممالک اور وسطی اور مشرقی یورپ میں اقتصادی نمو کی رفتار تیز ہوگی۔

اس منصوبے کے تحت دنیا کے بہت سے ممالک میں کئی اہم منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ورکشاپ کے تحت عالمی اقتصادی رجحانات ‘چین کی اقتصادی و تکنیکی ترقی اور چینی ثقافت اور بین الثقافتی مواصلت پر تین سیمینار ہوں گے۔ رنمنبی کی انٹرنیشنلائزیشن پر سیمینار (آج) منگل کو ہوگا۔روبوٹک رائٹنگ کی نمائش بھی ہوگی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے دورہ کے موقع پر پارٹی کی 19ویں اجلاس کے موقع پر سلک روڈ فنڈز اور چائنہ ڈویلپمنٹ بینک کے حکام کے ساتھ انٹرایکٹو میٹنگز بھی ہوں گی۔

ورکشاپ کے اختتام پر ہمسایہ ممالک کے حوالہ سے چین کی خارجہ پالیسی پر مباحثہ بھی ہوگا۔ورکشاپ کے شرکاء کی گریٹ ہال کے سٹیٹ لیڈر کے ساتھ ملاقات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔چینی ادارے سی او سی آئی ریسرچ لمیٹڈ کے چیئرمین ڈاکٹر سی اے او یوان زینگ نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی طرف سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ علاقائی اور عالمی اقتصادی اتحاد ‘ علاقائی اور عالمی تعاون کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔

ڈاکٹر یوان زینگ جو اکنامک بینک آف چائنہ کے سابق سربراہ بھی ہیں نے کہا کہ سی پیک کے تحت زیر تکمیل قراقرم ہائی وے ‘ گڈانی اور تھل میں توانائی کے منصوبے ‘ گوادر بندر گاہ ‘ کچھی لاہور ہائی وے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی کامیابیوں کی تازہ ترین داستان ہیں۔سی پیک منصوبے سے ناصرف لوگوں کو اقتصادی ترقی و خوشحالی ملے گی بلکہ یہ خطے میں امن اور خوشحالی کو بھی فروغ دے گا۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ محض پرانے نظام کی نئے نظام سے تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس میں مستقل اور اضافی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چین نے اس منصوبے پر نہ صرف روس ‘ آسیان ‘ قزاخستان اور ترکی سے پالیسی کے حوالے تعاون حاصل کیا۔بلکہ اس کی منصوبہ بندی کے لئے اس نے لائوس ‘ کمبوڈیا‘ میانمار ‘ ہنگری اور دیگر ممالک کے ساتھ ملکر کام کیا۔

چین نے اس عرصہ میں 40 ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کئے اور 30ممالک سے اداروں کی سطح پر تعاون حاصل کیا۔اس منصوبے کے تحت چین نے باہمی روابط کو یقینی بنانے کے لئے بھارت ‘ لائوس ‘ ایتھوپیا ‘ جبوتی ‘ ہنگری اور سربیا میں ریلوے لائنوں کی تعمیر میں مدد کی اور پاکستان میں گوادر بندر گاہ کی تعمیر میں عملی تعاون کیا ۔

ممالک کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے کے لئے مزید درجنوں منصوبے زیر تکمیل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چین تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت اور بزنس کے لئے بہتر ماحول کو فروغ دے رہا ہے اور 2014ء سے 2016ء کے دوران اس روٹ پر واقع ممالک کے ساتھ چین کی تجارت کا حجم 30کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔چین نے اس منصوبہ میں مجموعی طور پر 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور چینی کمپنیوں نے 20 سے زیادہ ممالک میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کے 56 زونز تعمیر کئے۔

جس کے نتیجے میں نہ صرف حکومتوں کو ٹیکس کی مد میں ایک ارب 10کروڑ ڈالر کی آمدن ہوئی بلکہ ان میں روزگار کے ایک لاکھ 80 ہزار مواقع بھی پیدا ہوئے۔ایشیاء انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے 9 منصوبوں کے لئے ایک ارب 70کروڑ ڈالر کا قرضہ فراہم کیا‘سلک روڈ فنڈز نے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور چائنہ سنٹرل اینڈ ایسٹ یورپ 16+1 فنانشنل ہولڈنگ کمپنی قائم کی گئی ‘انہوں نے کہا کہ منصوبے کے نتیجہ میں سائنس ‘ تعلیم ‘ ثقافت اور صحت کے شعبہ میں عوامی سطح پر روابط مضبوط تر ہوں گے۔

متعلقہ عنوان :