مریم نوازشریف اور کیپٹن صدر کا احتساب عدالت میںپیش ہونے کا فیصلہ

قانون اور آئین کے آحترام میں واپس جا رہے ہیں ،ْاحتساب عدالت میں پیش ہونگے اور نظام عدل کو آزمائیں گے ،ْدنیا جانتی ہے ،ْیہ احتساب نہیں انتقام ہے ،ْحسن اور حسین نواز وطن واپسی کا فیصلہ خود کرینگے ،ْ جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرگی اور انتخابات 2018میں ہونگے ،ْ وطن روانگی سے قبل مریم نواز کی میڈیا سے گفتگو

اتوار اکتوبر 13:21

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 اکتوبر2017ء) سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ قانون اور آئین کے آحترام میں واپس جا رہے ہیں ،ْاحتساب عدالت میں پیش ہونگے اور نظام عدل کو آزمائیں گے ،ْدنیا جانتی ہے ،ْیہ احتساب نہیں انتقام ہے ،ْحسن اور حسین نواز وطن واپسی کا فیصلہ خود کرینگے ،ْ جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرگی اور انتخابات 2018میں ہونگے ۔

اتوار لندن سے پاکستان کیلئے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ پچھلے ڈیڑھ سال سے جو چیزیں چل رہی ہیں وہ سامنے آگئی ہیں ،ْحیرانگی ہے ن لیگ کے صدرکے انتخاب پروہ اعتراض کررہے ہیں جن کاتعلق نہیں۔مریم نواز نے کہاکہ نواز شریف کا انتخاب پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے ،ْ مسلم لیگ (ن) کسے صدر منتخب کرتی ہے اس کا اسے جمہوری حق حاصل ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے تاہم نااہلی کے بعد بھی ہر چیز کا محور نواز شریف ہی ہیں۔

(جاری ہے)

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حسن اورحسین نوازوطن واپسی کافیصلہ خود کریں گے۔، ہم عدالتوں میں پیش ہوں گے اور نظام عدل کو آزمائیں گے جب کہ دنیا جانتی ہے یہ احتساب نہیں انتقام ہو رہا ہے ۔مریم نواز نے کہا کہ 2018 کے انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے جبکہ جمہوری حکومت اپنی ایک اور مدت پوری کرے گی۔میڈیارپورٹ کے مطابق مریم نواز پاکستان واپسی پر نواز شریف کی ہدایت پر احتساب عدالت میں پیش ہوں گی۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے وکلا سے نیب کیسز پر طویل مشاورت بھی کی۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وکلا نے سابق وزیر اعظم کو مشورہ دیا ہے کہ مریم نواز کو عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔