این آر او نہ ہوتا تو سابق وزیراعظم نوازشریف پاکستان نہیں آسکتے تھے ،ْنیئر حسین بخاری

ہمیں نوازشریف پر یقین نہیں ہے ،ْ ا ب میثاق جمہوریت کو ساتھ لے کر چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،ْانٹرویو

اتوار اکتوبر 14:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 اکتوبر2017ء) سابق چیئر مین سینٹ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ این آر او نہ ہوتا تو سابق وزیراعظم نوازشریف پاکستان نہیں آسکتے تھے ،ْ ہمیں نوازشریف پر یقین نہیں ہے ،ْ ا ب میثاق جمہوریت کو ساتھ لے کر چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ایک انٹرویو میں سید نئیر حسین بخاری نے کہا کہ اصل حقائق کی بات کی جائے تو 2008 کے عام انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں میں اعتماد کی کمی کی وجہ خود مسلم لیگ (ن) ہی تھی جن کے رہنما اپنی تقاریر میں ہمارے خلاف انتہائی غلط زبان کا استعمال کرتے تھے۔

انھوں نے (ن )لیگ کی جانب سے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت میثاق جمہورت سے پیچھے ہٹنے کے الزام کو بھی رد کیا اور کہا کہ ن لیگ ہی این آر او کی بنیاد بن کر سامنے آئی تھی کیونکہ ایسا نہ ہوا تھا تو نواز شریف آج بھی پاکستان نہیں آسکتے تھے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ (ن) لیگ اب جمہوریت کی باتیں کررہی ہے تاہم اسے یہ معلوم نہیں کہ پرویز مشرف جیسے آمر کو اقتدار سے ہم نے اتارا اور ملک میں جمہوری نظام کو قائم کیا۔پی پی رہنما نے کہا کہ اب میثاق جمہوریت کو ساتھ لے کر چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں اب نواز شریف پر یقین ہی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف پہلے معاہدے کرتے ہیں، اور بعد میں انحراف کرجاتے ہیںلہذا ان کی کسی بات پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔