تفصیلی خبر

پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی، سیاسی اور تاریخی تعلقات عشروں پر محیط ہیں اور ان تعلقات کو افغان مسئلہ کے ساتھ محدود نہیں کیاجاسکتا ہے، پاکستان اور امریکہ کی حکومتیں دہشت گردی کیخلاف جنگ سمیت مختلف معاملات پر بات چیت کے لئے پرعزم ہیں، بھارت سے خیر کی توقع نہیںکی جاسکتی پھر بھی مذاکرات کے لئے تیار ہیں،بھارت کو کشمیری عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیئے، سی پیک کے خلاف بھارتی پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے ، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں پاکستان سے زیادہ کوئی ملک امن نہیں چاہتا،حکومت کے خلاف سازش نظر نہیں آتی تاہم سازش ہوئی تو مقابلہ کریں گے‘سیاست کے فیصلے اور ملک میں تبدیلی کے فیصلے عدالتوں اور سڑکوں کی بجائے بیلٹ باکس پر ہونے چاہیئں‘ قبل از وقت انتخابات کا کوئی امکان نہیں اور آئندہ عام انتخابات 2018ء ہی میں ہوں گے‘ محمد نواز شریف میری جماعت کے لیڈر ہیں اور ان کی پالیسیوں کو آگے لیکر جا رہا ہوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اتوار اکتوبر 23:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اکتوبر2017ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی، سیاسی اور تاریخی تعلقات عشروں پر محیط ہیں اور ان تعلقاتکو افغان مسئلہ کے ساتھ محدود نہیں کیاجاسکتا ہے، پاکستان اور امریکہ کی حکومتیں دہشت گردی کیخلاف جنگ سمیت مختلف معاملات پر بات چیت کے لئے پرعزم ہیں، بھارت سے خیر کی توقع نہیںکی جاسکتی پھر بھی مذاکرات کے لئے تیار ہیں،بھارت کو کشمیری عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیئے، سی پیک کے خلاف بھارتی پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے ، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں پاکستان سے زیادہ کوئی ملک امن نہیں چاہتا،حکومت کے خلاف سازش نظر نہیں آتی تاہم سازش ہوئی تو مقابلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

اتوار کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکام سے میری اور وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی ہونے والی ملاقاتیں انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئیں جن میں کہیں بھی کوئی دھمکی آمیز بات نظر نہیں آئی بلکہ اس بات پر اتفاق ہوا کہ انسداد دہشت گردی میں دونوں ممالک پارٹنر ہیں اور ہمیں اس کے لیے مل کر کام کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بہتر پیغام تو ون آن ون میٹنگ یا دوطرفہ ملاقات ہی میں ہوتا ہے جو انتہائی مثبت رہا باقی کانگریس یا پریس میں دیے گئے بیان کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی جتنی دو ملکوں کے حکام کے مابین ہونے والی میٹنگز کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی افغان پالیسی پر ہماری نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا بیان بہت واضح تھا جس کے بارے میں ہم نے اپنا موقف بڑے واضح الفاظ میں امریکی حکام کے سامنے رکھا جسے انہوں نے سراہا اور اسی پر اب آگے بات بھی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا کو یہ بات بتائی کہ اس وقت دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ پاکستان ہی لڑ رہا ہے اور ہمارے تقریبا 2لاکھ سے زائد فوجی جوان اس جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہمارے جوانوں نے ملک سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے ایسی لازوال قربانیاں دی ہیں جن کی کہیں بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں نہ صرف ہماری مسلح افواج بلکہ عام شہریوں نے بھی بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ہمارے ہزاروں جوان اب تک اس جنگ میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں اور اس بات کو دنیا تسلیم بھی کرتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردوں کے حملے افغانستان کی سرزمین سے ہوتے ہیں جہاں ان دہشت گردوں کی قیادت بھی موجود ہے۔ یہ تاثر دینا کہ پاکستان سے کوئی فرد افغانستان میں جا کر حملہ آور ہوتا ہے یہ بالکل غلط ہے بلکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ افغانستان سے لوگ یہاں آ کر حملے کرتے ہیں جن میں خود کش بمبار بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بات بھی واضح کی کہ پاکستان سے بڑھ کر کوئی بھی افغانستان میں امن نہیں چاہتا، دنیا میں افغانستان کے علاوہ اگر کوئی دوسرا ملک وہاں امن چاہتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ افغان امن عمل کا حل نہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے لوگ مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا کو یہ بات بھی باور کرائی کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات صرف افغانستان تک ہی محدود نہیں بلکہ ہمارے امریکا سے 70سالہ تعلقات ہیں جن میں عسکری و اقتصادی پہلو بھی شامل ہیں جن کے تحت دونوں ملکوں کو آگے بڑھنا چاہیے جسے انہوں نے خوب سراہا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ہمارا کشمیر کا مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے جس پر ہم نہ تو کبھی پیچھے ہٹے ہیں اور نہ ہی ہٹیں گے اور آج بھی اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جب تک بنیادی مسئلے کو تسلیم نہیں کیا جاتا، بھارتی وزیراعظم سے بات نہیں ہو سکتی۔ بھارت کو چاہیئے کہ وہ کشمیری عوام کی رائے کا احترام کرے اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سب سے پہلے کشمیر اور پھر باقی معاملات کو دیکھیں گے۔ بھارت کو چاہیے کہ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق حق خود ارادیت دے تاکہ وہ بھی اپنی زندگی آزادانہ طریقے سے گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ سمیت ہر اہم بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگر کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری وہاں مختلف ممالک کے ساتھ 8اہم ترین ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں ان ممالک نے یہ بات تسلیم کی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے اس لیے پاکستان پر کسی دہشت گرد کی حمایت کا الزام لگانا درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا موقف تو دنیا کے سامنے رکھا ہی ہے بلکہ اپنے عمل سے بھی یہ بات ثابت بھی کی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان ہی دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت آپریشن ضرب عضب سے وزیرستان سے دہشت گردوں کا صفایا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی پیدا کر کے بھارت کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد آزادی پر سے عالمی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

پاکستان ماضی میں بھی اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا رہا ہے اور یہ حمایت آج بھی جاری ہے جو ہمیشہ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے خیر کی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی لیکن ہم بھارت سے بلامشروط بات چیت کے لیے تیار ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت بھی کرنی ہے اورکسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار بھی رہنا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف سازش نظر تو نہیں آتی لیکن اگر ہوئی تو اس کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی ہضم نہیں ہو پا رہی اور یہی وجہ ہے کہ وہ سی پیک پر مختلف سازشوں میں ملوث ہے حالانکہ سی پیک سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ مستفید ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی کے پاکستان کے دورے کے بارے میں ابھی سرکاری طور پر کچھ طے نہیں لیکن وہ جب بھی آنا چاہیں انہیں خوش آمدید کہیں گے اور افغان امن عمل کے لیے مجھے بطور وزیراعظم پاکستان بھی وہاں جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر سازش کا مقابلہ کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے اور یہ بات ہم نے بھارت کو باور بھی کرا دی ہے۔ ایک ا ور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ ہی ہمیں آگے بڑھنا ہو گا، سیاست کے فیصلے اور ملک میں تبدیلی کے فیصلے عدالتوں اور سڑکوں کی بجائے بیلٹ باکس پر ہونے چاہیئں کیونکہ جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کا کوئی امکان نہیں اور آئندہ عام انتخابات 2018ء ہی میں ہوں گے جس میں عوام جسے چاہیں گے منتخب کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا بطور وزیراعظم پتہ لگانا میرا کام ہے کہ یہ کیسے ہوا اور کس کے احکامات پر ہوا جو نہیں ہونا چاہیئے تھا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کے پاس آٹو میٹک اسلحہ لائسنس نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے نبھائی ہیں اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتا، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف میری جماعت کے لیڈر ہیں جو میرے رہنما بھی ہیں جن سے میری 28سالہ سیاسی رفاقت بھی ہے جن کا میں بے حد احترام کرتا ہوں اور ان کی پالیسیوں کو آگے لیکر جا رہا ہوں‘ یہ میری پارٹی کی حکومت ہے میری ذاتی نہیں۔

محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد پارٹی میں کسی قسم کی کوئی دراڑ نہیں آئی اور نہ ہی کوئی ایم این اے کہیں گیا ہے۔ ہمارے تمام ایم این ایز اپنے پارٹی صدر محمد نواز شریف کی قیادت میں متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف نے ہمیں نہ تو کوئی حکم جاری کیا ہے اور نہ ہی کوئی مشورہ دیا ہے بلکہ حکومت آزادانہ طور پر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور حکومت سے متعلق تمام فیصلے میں اور میری کابینہ کرتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ختم نبوت ؐ پر بنائی جانے والی محمد نواز شریف کی کمیٹی پارٹی کی کمیٹی تھی جبکہ ہم نے تو اسمبلی کے فلور پر بات کر کے معاملے کو حل بھی کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل حکومت کا بل نہیں تھا بلکہ پارلیمنٹ کی کمیٹی تھی جس نے تمام اصلاحات کیں‘حکومت تو صرف اسے سامنے لیکر آئی اور اس میں جو خامی رہ گئی اسے دور بھی کر دیا گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ یہ بات کہی ہے کہ ہم عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کریں گے۔