ماں کے دودھ کا کوئی متبادل نہیں، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورا لامین مینگل

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور گیریژن یونیورسٹی میں آگاہی سیمینار کا انعقاد ، وی سی ایل جی یو ودیگر کا خطاب

پیر اکتوبر 22:09

لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اکتوبر2017ء) ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الا مین مینگل نے کہا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی اگلے دو سے تین سالوں میں خوراک کی بیماریوں کا بوجھ کم کرنے اور پنجاب بھر میں فوڈ اتھارٹی قوانین پر عمل درآمدیقینی بنائے گی، تاہم چھاتی کے سرطان کی بیماری خواتین کے بچوں کوماں کا دودھ نہ پلانے کی وجہ سے بڑھ رہی ہے، دنیا بھر سے 1.7 ملین میں سے ، 0.

(جاری ہے)

1 ملین چھاتی کے کینسر کے کیسز صرف پاکستان میں رپورٹ ہوئے ہیں،ان خیالات کا اظہارانہوں نے گیریژن یونیورسٹی لاہور میں "ماں کا دودھ بمقابلہ ڈبے کا دودھ، اور پاکستان میں چھاتی کے کینسر کے اسباب" پر سیمینار میں کیا،تقریب میں علامہ اقبال میڈیکل کالج کی پیتھالوجی کی پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ اشرف اور رجسٹرارگیریژن یونیورسٹی لاہور، بریگیڈئیر(ر) محمود بشیر باجوہ نے شرکت کی،ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے حفظان صحت کی اہمیت اور کھانے کی تیاری کے عمل کی نگرانی کے عمل کے موثر ہونے پر زور دیا اور فارمولہ دودھ کے نقصانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس حوالے سے اپنی پالیسی واضح کر رکھی ہے ، ہسپتال کے احاطہ اوراور اس کے ارد گردکے کلینکس میں فارمولہ دودھ کی فروخت اور ا س کے مفت نمونے پر پابندی عائد کی ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ فارمولہ دودھ کمپنیزپنجاب فوڈ اتھارٹی کے وضع کردہ مارکیٹنگ کے اصول اور قواعد و ضوابط کی پیروی کرنے کی پابند ہیں، ڈی جی نے مزیدکہا کہ بچے کی پیدائش کے فورا بعد ماں کا دودھ نہ پلانے سے ماں کے جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں جو کینسر کا باعث بنتی ہیں،انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی پنجاب حکومت کے تعاون سے فوڈسیفٹی کے 70 سال کے مسخ شدہ نظام کوسدھارنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے نتائج کچھ سالوں میں حاصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔