پلوامہ میں پرامن شہریوں پر فائرنگ ریاستی دہشت گردی ہے‘حریت رہنماء

مسئلہ کشمیر نے حقیقی معنوں میں ایک انسانی المیے کی شکل اختیار کررکھی ہے اور یہ خطہ ایک ماتم کدے میں تبدیل ہوچکا ہے

اتوار اکتوبر 13:20

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اکتوبر2017ء) مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بھارتی فورسز کی طرف سے پلوامہ میں پرامن شہریوں پر براہ راست فائرنگ سے ایک عام شہری کوشہید اور درجنوں کو زخمی کرنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیاہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مزاحمتی رہنمائوں نے سرینگر سے جاری ایک مشترکہ بیان میںبھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے تین نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرفروش ایک اعلیٰ اور مقدس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اور قوم پر یہ ذمہ داری ڈال دیتے ہیں کہ ان کے مشن کو ہر صورت میں جاری رکھا جائے۔

آزادی پسند رہنمائوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر نے حقیقی معنوں میں ایک انسانی المیے کی شکل اختیار کررکھی ہے اور یہ خطہ ایک ماتم کدے میں تبدیل ہوچکا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم امن کی سب سے زیادہ خواہشمند ہے لیکن بھارت فوجی طاقت کے نشے میں اس مسئلے کو بندوں کی نوک پر حل کرنا چاہتا ہے اور وہ ایک منصوبہ بند طریقے سے کشمیریوں کی نسل کُشی کررہا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے غمزدہ خاندانوں سے یکجہتی اورہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

متعلقہ عنوان :