چیئرمین نیب کی زیرصدارت اجلاس،زیرالتواء کیسز،نیب بجٹ،افسران کی کاکردگی کاجائزہ

جسٹس(ر)جاوید اقبال کی غفلت کےمرتکب افسران کی سرزنش،نیب میں17 سالوں سے زیر التواء شکایات پرکارروائی کیوں نہیں کی گئی؟،بدعنوان افسران کی نیب میں کوئی جگہ نہیں،قانون سےکوئی بالا نہیں۔چیئرمین نیب کا خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل اکتوبر 16:09

چیئرمین نیب کی زیرصدارت اجلاس،زیرالتواء کیسز،نیب بجٹ،افسران کی کاکردگی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17اکتوبر2017ء ) : چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال نے غفلت کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوان افسران کی نیب میں کوئی جگہ نہیں،نیب میں اندرونی احتساب کا عمل شروع کردیا ہے،مجھ سمیت نیب کا کوئی بھی افسر قانون سے بالا نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے آج اجلاس کی صدارت کی۔

جس میں نیب میں زیر التواء کیسز اور نیب بجٹ سمیت افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال نے غفلت کے مرتکب بعض نیب افسران کی سرزنش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں 17 سالوں سے زیر التواء شکایات پرکارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ بعض کیسز کی طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تحقیقات چل رہی ہیں۔

(جاری ہے)

چیئرمین نیب نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنیوالےافسران اور اہلکاروں کیخلاف تادیبی کارروائی کی جائےگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیب بجٹ کا آڈٹ شروع کردیا ہے۔نیب بجٹ کو بہترین طریقے سے خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کہ کسی کی سفارش یا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ مجھ سمیت نیب کا کوئی بھی افسر قانون سے بالا نہیں ہے۔بدعنوان افسران کی نیب میں کوئی جگہ نہیں۔نیب میں اندرونی احتساب کا عمل شروع کیا۔کرپٹ افسران نے نیب کی ساکھ کوشدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں بدعنوان افسران کےخلاف موثراندازمیں کارروائی نہیں ہوئی۔

متعلقہ عنوان :