حکومت نے ظالنانہ ٹیکسز کے نفاذ کا 200سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے‘آزاد کشمیر میں ٹیکسز کا نفاذ ظالمانہ اور بدترین ریاستی جبر پر مشتمل ہے‘حکومت سینکڑوں اشیاء پر ٹیکس نافظ کر کہ اب صرف کھانا پینا،چولہا اور سانس پر ٹیکس بچا ہے

کشمیر نیشنل پارٹی آزاد کشمیر کے صدر میر افضال سلہریا کی صحافیوں سے بات چیت

جمعہ نومبر 15:49

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2017ء) حکومت نے ظالنانہ ٹیکسز کے نفاذ کا دو سو سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے،آزاد کشمیر میں ٹیکسز کا نفاذ ظالمانہ اور بدترین ریاستی جبر پر مشتمل ہے۔حکومت سینکڑوں اشیاء پر ٹیکس نافظ کر کہ اب صرف کھانا پینا،چولہا اور سانس پر ٹیکس بچا ہے۔آزاد کشمیر حکومت ان پر بھی ٹیکس نافذ کر دے۔متازعہ خطہ میں ٹیکس کا نفاذ کر کے حکومت اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار کشمیر نیشنل پارٹی آزاد کشمیر کے صدر میر افضال سلہریا نے صحافیون سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ریاست کے تمام وسائل لوٹے جا رہے ہیں اور ان وسائل پر ریاستی عوام کا حق ملکیت بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرکے ریاستی عوام کے منہ سے نوالہ تک چھینا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

آزادکشمیر کی موجودہ حکومت نے جمون وکشمیر کی دو سو سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ لوٹ کھسوٹ اور عوام پر جابرانہ ٹیکس نافذ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر اور حکومت ریاستی عوام کی نفرت کا شکار ہو گئی۔حکومت نے ظلم وناانصافی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔اب صرف چولہے اور سانس لینے پر ٹیکس باقی بچا ہے اس کا بھی نفاذ بعیداز قیاس نہیں۔آزادی پسند رہنماء افضال سلہریا کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ظالمانہ ٹیکس کے نفاذ سے قبل ریاستی وسائل پر عوام کا حق ملکیت تسلیم کرے۔حکومت میں اتنی جرات نہیں کہ ریاست کے وسائل اپنے تصرت میں کر سکے لیکن ٹیکس لگا کر اسلام آباد اور حکمران کی تجوریاں بھرنے کیلئے غیر قانونی اقدامات اٹھا رہی ہے جو ریاستی عوام یکسر مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ظالمانہ قوانین کے خلاف آواز حق بلند کریں۔

متعلقہ عنوان :