کویتی ایئرلائن کو اسرائیلیوں کو سوار نہ کرنے کا حق ہے، جرمن عدالت

جمعہ نومبر 16:08

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2017ء) جرمنی کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خلیجی ریاست کویت کی سرکاری ایئرلائن کو اسرائیلی مسافروں کو اپنے جہازوں میں سفر کرنے کی اجازت نہ دینے کا حق حاصل ہے کیونکہ اگر کمپنی اسرائیلی مسافروں کو سوار ہونے کی اجازت دیتی ہے تو اس کے نتیجے میں اسے عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمنی کی ریاست فرینکفرٹ میں قائم عدالت نے گزشتہ روز اپنے فیصلے میں کہا کہ کویتی فضائی کمپنی کو اسرائیلی مسافروں کے ساتھ لین دین نہ کرنے کا حق ہے کیونکہ کویت کا سرکاری قانون اسرائیل کے بائیکاٹ پر زور دیتا ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ ہمیں اس قانون کی منطق تلاش کرنے اور اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں۔

(جاری ہے)

تاہم اگر کویتی کمپنی اسرائیلیوں کو سوار کرنے کرنے پر مشکلات کا سامنا کرتی ہے کمپنی کو اسرائیلیوں کو سوار کرنے پر مجبور کرنا غیر منطقی ہے۔

کمپنی اگر کویت کے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسے جرمانہ یا عہدیداروں کی گرفتاری اور جیل میں ڈالے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔خیال رہے کہ ایک اسرائیلی نے جرمنی کی ایک عدالت میں کویت کی فضائی کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ اس نے کویتی کمپنی کے ایک ہوائی جہاز میں فرینکفرٹ سے بنکاک تک کے سفر کی سیٹ بک کرائی تھی مگر کمپنی نے اس وقت سیٹ کینسل کردی جب اسے پتا چلا کہ مسافر کے پاس اسرائیل کا پاسپورٹ ہے۔ کمپنی کی طرف سے معذرت کے ساتھ مسافر سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی دوسری کمپنی کی پرواز پر سفرکرے، کیونکہ وہ اپنے ریاستی قانون کے مطابق کسی اسرائیل کو سوار کرنے کی مجاز نہیں۔

متعلقہ عنوان :