تمام مہاجر طلباء کو مفت تعلیم دی جائے ،غلام محمد خان

مکمل فیس معافی نوٹیفکیشن نہ ہونے کیخلاف مہاجرین طلباء سمیت مہاجرین کی تمام تنظیمیں طلباء کا ساتھ دیتے ہوئے تا مرگ موت دھرنا دیں گی‘ حکومت آزادکشمیر بھی اگر اس طرح کا ناروا سلوک مہاجرین کیساتھ جاری رکھے گی تو ان کا ٹھکانہ کہاںہوگا چیئرمین آل کشمیر مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا اجلاس سے خطاب

جمعہ نومبر 16:13

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2017ء) آل کشمیر مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین غلام محمد خان نے کہا ہے کہ مہاجر طلباء سے سرکاری تعلیمی اداروں میں فیسوں کی وصولی بند کی جائے ۔تمام مہاجر طلباء کو مفت تعلیم دی جائے ۔اجڑے مہاجرین سے فیسوں کی وصولی ان پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے ۔بھارتی ظلم وستم کا مہاجرین پر مزید ظلم نہ کیا جائے ۔

مہاجر طلباء سے نہ انصافی قبول نہیں ۔حکومت ہوش کے ناخن لے ۔بیس کیمپ حکومت کا قیام مقبوضہ کشمیر کی آزادی ،مہاجرین کی آبادکاری ،تعمیر وترقی تھا۔حکومت اس مقصد سے ہٹ چکی ہے ۔ان خیالات کا اظہار آل کشمیر مہاجرسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین غلام محمد خان نے مہاجر طلباء کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ریاض اعوان،وسیم درانی ،ظہور سعید خان،رفاقت اعوان،وسیم کشمیری،مختار خان،رحمت الہی،ندیم درانی ،جہانگیر قریشی،اکرم شاہ،عابد قریشی ،عمران اعوان ودیگر سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کشمیر کیلئے وزارت محکمہ بحالیات موجود ہے ۔چالیس ہزار40000مہاجرین کے بچے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں ۔سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو نے مہاجرین کو مفت تعلیم دینے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔حکومت آزادکشمیر نے 15 سال قبل باقاعدہ مہاجرین کے بچوں کو مفت تعلیم کا نوٹی فکیشن جاری کررکھا ہے۔جس پر آج تک عملدرآمدہوتا رہا ہے راجہ فاروق حیدر خان حکومت میں برسراقتدار آتے ہیں مہاجر طلباء طالبات کی فیسیں لاگو کردی گئیں۔

بے چارے مہاجرین طلبہ وطالبات فیسیں ادا نہیںکرسکتے ہیں جس سے ہزاروں طلبہ وطالبات بھاری فیسیں ادا نہیںکرسکتے ہیں مہاجرین طلباء کا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے ۔مہاجرین کشمیر میں طلبہ وطالبات پر تعلیمی دروازے بند ہونے پر سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔انہوں نے فوری طور پر وزیراعظم آزادکشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ مہاجرین طلباء کی مکمل فیس معافی کا نوٹی فکیشن جاری کر کے مہاجرین طلباء کے مستقبل کو بچایا جائے۔

ایک تو پہلے بھی ان کے گھر بار لٹ چکے ہیںاپنے جدا ہوچکے ہیں اب حکومت آزادکشمیر بھی اگر اس طرح کا ناروا سلوک مہاجرین کیساتھ جاری رکھے گی تو ان کا ٹھکانہ کہاںہوگا۔اگر نہیں سنبھال سکتے تو بتادیں۔اگر یکم جنوری سے پہلے نوٹیفکیشن جاری نہیںہوتا تو ان کے داخلے کالجز میں منسوخ ہوجائیں گے۔اس طرح کا ظلم مہاجرین کیساتھ کیوںکیا جارہا ہے ۔اگر مکمل فیس معاف نہیں ہوتی تو مہاجرین طلباء سمیت مہاجرین کی تمام تنظیمیں طلباء کا ساتھ دیتے ہوئے تا مرگ موت دھرنا دیں گی ۔

متعلقہ عنوان :