دنیا بھر میں ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا بتدریج خاتمہ کیا جا رہا ہی

ایف بی آر ٹیکس آئوٹ ریچ پروگرام کے ذریعے مزید افراد کو ٹیکس کے دائرہ میں لائے چیئرمین یونائیٹڈ بزنس گروپ افتخار علی ملک کی گجرات، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ سے تاجروں کے وفد سے گفتگو

جمعہ نومبر 16:15

لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2017ء) یونائیٹڈ بزنس گروپ کی قیادت نے کہا ہے کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کم از کم 3.5 ملین نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لائے جبکہ حکومت بگڑتی ہوئی قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر بڑے اقدامات اٹھائے۔ یہ بات یو بی جی کے مرکزی چیئرمین اور نائب صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک نے جمعہ کو یہاں حاجی عرفان یوسف کی سربراہی میں گجرات، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وفد میں سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کی نمائندگی ایگزیکٹو ممبر عبدالغفور بٹ کر رہے تھے۔ افتخار علی ملک نے ملک میں ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ادائیگی ہی ایک ایسا عنصر ہے جو کاروبار کرنے میں آسانی کے لحاظ سے کسی ملک کی مجموعی درجہ بندی کا تعین کرنے میں کی بنیاد ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ٹیکس ادا کرنے والے ممالک میں پاکستان کی پوزیشن 16درجے تنزلی کے بعد 156 ویں پوزیشن سے 172 تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 47 مختلف قسم کے ٹیکس ہیں جبکہ بھارت میں ٹیکسوں کی تعداد 13 ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 47 ٹیکس ادا کرنے کے لئے پاکستان میں 311 گھنٹے کا وقت صرف ہوتا ہے جبکہ سری لنکا میں اتنے ہی ٹیکسوں کی ادائیگی پر 168 گھنٹے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی بقاء مستحکم سیاسی حکومت اور بہتر معیشت سے براہ راست منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں سے کوئی بھی تاجر انڈسٹری پر غیر منطقی ٹیکسوںپر مطمئن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ چین کی طرز پر تیزرفتار صنعتی ترقی کے لئے بجلی اور گیس ٹیرف کے خصوصی پیکیج دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف اور ٹیکسوں کی بلند شرح کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے اور پاکستان عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے لہذا برآمدات کم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کی بجائے حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دے اور نان فائلرز پر ٹیکس بڑھانا چاہئے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس آئوٹ ریچ پروگرام کے ذریعے مزید افراد کو ٹیکس کے دائرہ میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں یو بی جی حکومت کی مکمل حمایت کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری کو موجودہ اقتصادی صورتحال پر سخت تشویش ہے جس میں تاجر ہی سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لئے مارکیٹ ٹریڈ یونینوں کے ساتھ مل کر سروے کرنا چاہئے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ یو بی جی تمام چیمبرز کے اس مطالبہ کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ فوری طور پر بینک لین دین پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس اور غیر منصفانہ لیوی نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش اور ٹیکس نیٹکی توسیع میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیکو طویل عرصے سے جاری اس مسئلے کا فوری نوٹس لینا چاہئے تاکہ کاروباری برادری اور حکومت کے درمیان بد اعتمادی کی فضا کا خاتمہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا بتدریج خاتمہ کیا جا رہا ہے تاہم پاکستان میں ریونیو میں ان کی شرح تقریبا 60 فی صد ہے باوجود اس کے کہ اس پریکٹس پر اخراجات وصولیوں سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے علاوہ، قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے غریب پرور، کاروبار دوست، اور برآمدات کے فروغ میں معاون مالیاتی پالیسیاں متعارف کرانے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو بی جی کبھی کاروباری برادری کے مفادات پر کوئی سودے بازی نہیں کرے گا اور بجٹ سے متعلق حقیقی دشواریوں کے فوری خاتمہ کے لئے اعلیٰ حکام سے رجوع کرے گا۔

متعلقہ عنوان :