قطر میں برطانوی گلوکار ڈینیلا کی موت کی تحقیقات جاری

وہ محض 6دن پہلے ہی برطانیہ سے قطر پہنچی اور اس کی لاش ہوٹل کے کمرے سے برآمد ہو ئی ڈینیلا نے برطانیہ میں کام تلاش کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد قطر جانے پر مجبور ہوئی تھی

پیر دسمبر 11:50

دوحہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2017ء) قطر میں ایک ہوٹل کے کمرے سے معروف برطانوی گلوکارہ کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کے متعلق ایسی تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ ہر سننے والا دکھی ہو جائے۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 32سالہ گلوکارہ ڈینیلا اوبینگ ’ڈیوی کا‘کے نام سے جانی جاتی تھی۔ وہ محض 6دن پہلے ہی برطانیہ سے قطر پہنچی اور اس کی لاش ہوٹل کے کمرے سے برآمد ہو گئی۔

اس کے دوستوں نے بتایا ہے کہ ڈینیلا برطانوی حکومت کی سردمہری کے باعث ملک چھوڑنے اور بیرون ملک کام تلاش کرنے پر مجبور ہوئی۔ وہ برین ٹیومر کی مریض تھی اور حکومت کی طرف سے اسے مالی امداد دی جا رہی تھی لیکن کچھ عرصہ قبل حکومتی انسپکٹرز نے اسے صحت منددے دیا اور کہا کہ وہ خود کمانے کے قابل ہے جس کے بعد اس کی مالی امداد بند کر دی گئی۔

اس کے بعد ڈینیلا نے برطانیہ میں کام تلاش کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی کے بعد وہ قطر جانے پر مجبور ہو گئی۔

ڈینیلا ایک بچے کی ماں بھی تھی۔ اس کے دوستوں نے مزید بتایا ہے کہ پہلے بھی ڈینیلا کو کئی دماغی دورے پڑ چکے تھے اور اب بھی ممکنہ طور پر اس کی موت کی وجہ اس کا برین ٹیومر ہی ہو سکتا ہے۔وہ مالی مسائل سے دوچار ہونے کے باعث شدید ذہنی دبائو کا شکار بھی ہو چکی تھی۔رپورٹ کے مطابق ڈینیلا نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے انٹرکانٹی نینٹل کے ساتھ 6ماہ کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اسے ہوٹل کے مہمانوں کے سامنے پرفارم کرنا تھا۔

اس کے ایک دوست نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر لکھا ہے کہ ’’کیا ڈینیلا کو وہ مالی امداد ملی جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اس کی مالی امداد واپس نہ لی جاتی تو وہ آج ہم میں موجود ہوتی۔ میرے خیال میں طویل سفر، ذہنی دبائو اور مالی مسائل کی پریشانی اس کی موت کے اسباب ہیں۔‘‘ قطر میں ڈینیلا کی موت کی تحقیقات جاری ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments