خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے ماں اور بچوںکی شرح اموات پر مکمل قابو پایا جا سکتا ہے، صوبائی وزیر بہبود آبادی

پیر دسمبر 14:12

خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے ماں اور بچوںکی شرح اموات پر مکمل قابو ..
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2017ء) صوبائی وزیر بہبودآبادی پنجاب ڈاکٹرملک مختار احمد بھیرت نے کہا کہ پاکستان کی ترقی خاندانوں کی خوشحالی سے مشروط ہے کیونکہ صحت مند خاندان ہی درحقیقت صحتمند پاکستان کی ضمانت ہے اور ایسا ہم بہتر خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں اس سے ماں اور بچوںکی شرح اموات پرمکمل قابو پایا جا سکتا ہے اور ملک و قوم کی معاشی، اقتصادی اورمعاشرتی ترقی کے لیے کوالٹی پاپولیشن کا حصول بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے کیونکہ پوری قوم جانتی ہے کہ ہمیں اس وقت صحت ، تعلیم اور زندگی کی بنیادی ضروریات کے فقدان کا سامناہے۔

ان خیالات کااظہار صوبائی وزیر نے اپنے دفتر میں سول سوسائٹی کے نمائندگان سے ملاقا ت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہر پڑھے لکھے طبقے، طلباء اساتذہ، میڈیا، سول سوسائٹی، پرائیویٹ سیکٹر، حکومتی ادارے ، سیاستدان اور خصوصی طور پر میڈیکل کے شعبے سے وابستہ حضرات کو عام لوگوں کوٹیکنیکل طریقے سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے کی سنگینی بارے سمجھانے کی ضرورت ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ بھی ہم نے خود اپنے لیے پیدا کیا ہے جب مشرقی پاکستانی ہم سے جدا ہوا تووہ پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ تھا لیکن قیام بنگلہ دیش کے بعد ان لوگوں نے اپنی آبادی کو کنٹرول کیااور وہا ں آبادی آج بھی کنٹرول ہے، بے شک رزق دینے والا رب ہے لیکن بحیثیت کنبہ کے سربراہ ہم پر بھی اپنی اولاد کا حق ہے کہ ہم انہیں اچھی تعلیم و تربیت دیں انہیں خود کیلیے اورمعاشرے کے لیے مفید رکن بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، اس طرح ناصرف اس خاندان کی معاشی گروتھ ہو گی بلکہ اہل خانہ کی ذہنی ، جسمانی ، نفسیاتی اور اخلاقی صحت میں واضح اور مثبت بہتری آئے گی کیونکہ پاکستان کی ترقی خاندانوں کی خوشحالی سے مشروط ہے ہمیںماں اور بچوںکی شرح اموات پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

انہوںنے کہا کہ محکمہ اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے پر فوکس کیے ہوئے ہے اس ضمن میںہمارے موبائل یونٹس پسماندہ علاقوں میں فیملی پلاننگ سے متعلق خدما ت و معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments