ٹیکس گزاروں کے اعداد و شمار پر مبنی ڈائریکٹری ’’بیٹوین دی لائن‘‘ کی رونمائی،براہ راست ٹیکسوں کی شرح میں قابل ذکر اضافہ ہوا،عابد قیوم سلہری

جمعہ دسمبر 20:06

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 دسمبر2017ء) گزشتہ مالی سال کے دوران محصولات میں براہ راست ٹیکسوں کی شرح میں قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا ہے جو قومی معیشت کیلئے خوش آئند امر ہے تاہم بلاواسطہ ٹیکسوں کی تعداد میں کمی لانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری نے ٹیکس گزاروں کے اعداد و شمار پر مبنی ڈائریکٹری ’’بیٹوین دی لائن‘‘ کی رونمائی کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

شعیب نظامی اور معاون مصنفین محسن کاظمی اور ارسلان چنا کی لکھی رپورٹ کو جاری کرنے کا اہتمام ایس ڈی پی آئی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عابد سلہری نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ بڑھانے کی بجائے ہمیں ٹیکسوں کی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے درمیان اعداوو شمار کا تفاوت دور کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مصنف شعیب نظامی نے اس سے قبل مندرجات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجمموعی طور پر ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ 79,728 کمپنیوں کے اعداد و شمار کی پڑتال کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ سال 2015-16ء کے دوران مجموعی طور پر484 ارب روپے کے ٹیکس جمع کئے گئے اور صرف 66 کمپنیوں نے ایک ارب روپے سے زیادہ ٹیکسوں کی ادائیگی کی جن سے کل 231ارب روپے کے ٹیکس وصول کئے گئے۔

شعیب نظامی نے کہا کہ ٹیکسوں کی ادائیگی کے حوالے سے بینکنگ کے شعبہ کا گراف تیزی سے بلند ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار مجموعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ایف بی آر اور ایس ای سی پی کو ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کو سہولتیں دینے اور ٹیکس گوشواروں کو جمع کرانے کا عمل آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی لانے کی اشد ضرورت ہے۔