2017ء میںدہشتگردی کے 16کیسز فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے روا ںسال ٹارگٹ کلنگ کے کل 21واقعات میں پولیس ،ایف سی اہلکاروں سمیت 49افراد شہید

جبکہ 11زخمی ہوئے 2017ء میں 6خودکش دھماکوں میں 45افراد شہید جبکہ 195زخمی ہوئے ،آئی ای ڈی کے 10دھماکوں میں 3افراد شہید جبکہ 31زخمی ہوئے ،2017ء میں پولیس 3592کیس رجسٹرڈ کئے،1195افراد کو سزائیں ہوئیں،ڈپٹی انسپکٹر پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کی پریس کانفرنس

جمعہ دسمبر 20:23

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 دسمبر2017ء) ڈپٹی انسپکٹر پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہاہے کہ 2017ء میںدہشتگردی کے 16کیسز فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے روا ںسال کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے کل 21واقعات میں پولیس ،،ایف سی اہلکاروں سمیت 49افراد شہید جبکہ 11زخمی ہوئے 2017ء میں 6خودکش دھماکوں میں 45افراد شہید جبکہ 195زخمی ہوئے ،آئی ای ڈی کے 10دھماکوں میں 3افراد شہید جبکہ 31زخمی ہوئے ،2017ء میں پولیس 3592کیس رجسٹرڈ کئے،1195افراد کو سزائیں ہوئیں ،جرائم کے 5643واقعات ہوئے آئندہ سال اولین ترجیح امن وامان کی بہتری اور دہشتگردی میں کمی کرنا ہے یہ بات انہوں نے جمعہ کو سی پی او کوئٹہ میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔

اس موقع پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن جواد طارق ،ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ نصیب اللہ خان بھی انکے ہمراہ تھے ۔

(جاری ہے)

ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ نے کہاکہ 2017ء میں ٹارگٹ کلنگ میں پولیس کے 27آفسران واہلکار شہید جبکہ 4زخمی ہوئے ایف سی کے دو اہلکار شہید ہوئے جبکہ 20عام شہری شہید اور 7زخمی ہوئے یہ شرح گزشتہ سال کی نسبت کم ہے 2017ء میں اب تک 6خودکش دھماکوں میں 12پولیس اہلکار شہید جبکہ 49زخمی ہوئے پاک فو ج کے 10اہلکار شہید اور 25زخمی ہوئے 23عام شہری جبکہ 125زخمی ہوئے خودکش حملوں میں 6ایف سی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 2016ء میں 4خودکش دھماکوں میں 155افراد شہید جبکہ 270زخمی ہوئے تھے ۔

انہوں نے بتایاکہ 2016ء میں آئی ای ڈی کے 12دھماکے ہوئے جن میں 10افراد شہید جبکہ 122زخمی ہوئے تھے لیکن 2017ء میں آئی ای ڈی کے 10دھماکوں میں تین افراد شہید جبکہ 31زخمی ہوئے ان دھماکوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک عام شہری شہید ہوئے دیگر اقسام کے 4دھماکوں میں 7افراد زخمی ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ ضلع کوئٹہ کی حدود میں کل 3592کیس رجسٹرڈ کئے گئے جن میں سے 2799کا چالان جمع کروایا گیا ماضی کے 2844کیسز کے بھی چالان جمع کئے گئے اس کے علاوہ 793مقدمات میں تحقیقات جاری ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ پولیس نے 2017ء میں کل 5643چالان بھی کروائے جن میں 12180افراد کو نامزد کیا گیا 4823 افراد کو سزائیں ہوئیں ،1435افراد نے سمجھوتہ کیا 1136افراد کو بری کیا گیا جبکہ 3515افراد کے کیس زیر سماعت ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس سال کیسز کو برق رفتاری سے چلاتے ہوئے متعدد افراد کو سزائیں دی گئیں جن میں سزا کی شرح 71فیصد رہی سال 2017ء میں 1906افراد کو سزائیں ہوئیں جن میں چار افراد کو سزائے موت 20کو عمر قید 23کو 7سال سے زائد 71کو تین سے سات سال 122کو 1سے 3سال 157کو ایک سال سے کم جبکہ 798کو جرمانوں کی سزائیں دی گئیں ۔

انہوں نے کہاکہ اس سال قتل کے مقدمات میں کمی واقع ہوئی لڑائی اور جھگڑے کے 11کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا اغواء برائے تاوان کے 4مقدمات ہوئے جوکہ 2012میں 59تھے اس سال کوئی بینک ڈکیتی کا کوئی واقع نہیں ہوا ،گاڑی چوری کے 4مقدمات میں اضافہ ہوا ،موٹرسائیکل چھیننے کے 46جبکہ موٹر سائیکل چوری کے 19واقعات کم ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ ضلع کوئٹہ کے حدود میں سال 2017 میں2935کلو گرام چرس ،2.28کلو گرام ہیروئن ،208گرام افیون ،15گرام کرسٹال اور 10گرام شیشہ برآمد کرکے 432مقدمات درج کئے گئے جن میں 186افراد کو سزائیں 3کیسز میں افراد کو بری جبکہ 242کیس زیر سماعت ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس افسران کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے 16مختلف مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے جن میں سے کئی اہم دہشتگردوں کو سزائیں ہوگئیں ہیں ۔ٹریفک کے معاملات میں بھی بہتری لانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر تجاوزات اور سڑکیں تنگ،ٹریفک سگنل فعال نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے اس معاملے کے حل کیلئے حکومت کو تجاویز دی گئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ سال 2018ء میں کوئٹہ میں امن وامان کی بہتری ،جرائم کی شرح میں کمی اور منشیات کا قلعہ قمہ کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عوامی شکایات پر پولیس اہلکاروں کیخلاف بھی ڈسپلنری ایکشن لیا گیا ہے انہوں نے بتایاکہ دہشتگرد پولیس کا مورال ڈائون کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں انکے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے ۔