ایرانی فوج اور پولیس کا مظاہرین کیخلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن‘200شہری گرفتار

مشتعل مظاہرین کی بڑی تعدادکا تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج

پیر جنوری 12:52

تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2018ء) ایران میں حکومت مخالف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کل اتوار کو ملک کے درجنوں شہروں میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری کے خاتمے میں حکومت کی ناکامی اور ملائیت کی آمریت کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔رات گئے سال نو کی پہلی شب پر بھی بڑی تعداد میں شہریوں نے سڑکوں پر احتجاج جاری رکھا۔ دوسری جانب ایرانی فوج اور پولیس نے مظاہرین کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔

تازہ کریک ڈاؤن میں 200 مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ایران میں ہونے والے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں جگہ جگہ ہونے والے احتجاج کی جھلکیاں دکھائی گئیں۔تہران کے ڈپٹی گورنر علی اصغر ناصر بخت نے بتایا کہ پولیس نے دارالحکومت سے 200 مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔

(جاری ہے)

خبر رساں ادارے ایلنا کے مطابق نائب گورنر کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے بعض طلباء کو رہا کر دیا گیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں ایسے 40 افراد بھی شامل ہیں جو غیر قانونی طور پر ملک میں احتجاج منظم کرنے میں پیش پیش تھے۔حکومت نے احتجاج کی شدت کم کرنے کے لیے موبائل فون پر ٹیلی گرام کی رسائی محدود کردی ہے۔دریں اثناء مشتعل مظاہرین کی بڑی تعداد نے تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج کیا ہے۔

تہران میں باستور روڈ پر واقع سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کو سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔شہرو ندیار ٹی وی نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ مظاہرین کا ایک ھجوم کل شام سپریم لیڈر کی رہائش کے باہر جمع ہوا جہاں انہوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

متعلقہ عنوان :