اسرائیلی طلبہ فلسطین پرغاصبانہ قبضے اورسفاکانہ مظالم کیخلاف پھٹ پڑے

اسرائیلی فوج میں لازمی خدمات انجام نہیں دے سکتے چاہے ہمیں جیل ہی کیوں نہ بھیج دیا جائے‘طلباء کا وزیراعظم کو خط

پیر جنوری 12:52

تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2018ء) اسرائیلی طلبہ فلسطین پرغاصبانہ قبضے اورسفاکانہ مظالم کیخلاف پھٹ پڑے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو طلبہ نے خط لکھ دیا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج میں لازمی خدمات انجام نہیں دے سکتے چاہے ہمیں جیل ہی کیوں نہ بھیج دیا جائے۔

(جاری ہے)

اسرائیل بھر سے تریسٹھہ طلبا نے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو ودیگر کو خط لکھ دیا، خط میں فلسطینیوں پر سفاکانہ مظالم ڈھانے والی فوج میں لازمی سروس انجام دینے سے انکارکیا اور کہا کہ چاہے ہمیں جیل میں کیوں نہ ڈال دیا جائے لیکن ظالم فوج کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

طلبا نے اسرائیل کی نسل پرست حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا خط میں کہا یہودی فوج نسل پرست حکومت کی پالیسیوں پرعمل کرکے بنیادی انسانیحقوق کی دھجیاں اڑاتی ہے۔ طلبا نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ، مغربی کنارے میں یہودیوں کے لئے غیرقانونی رہائش گاہوں کو بھی ناجائز قرار دے دیا۔

متعلقہ عنوان :