پاکستان اور بھارت ماہی گیروں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کریں ،محمد علی شاہ

منگل جنوری 16:43

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جنوری2018ء) پاکستان و بھارت نے گذشتہ روز نئی دہلی اور اسلام آباد میں دونوں ممالک میں قید شہریوں اور ماہی گیروں کی لسٹ سفارتی چینل کے ذریعے ایک دوسرے کے حوالے کردی ہیں۔ بھارتی جیلوں میں اس وقت 94 پاکستانی ماہی گیر جبکہ 250 سول قیدی موجود ہیں، جبکہ پاکستانی جیلوں میں 58 سول اور 399 ماہی گیر قیدی بنے ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے سمندری سیکورٹی اہلکار ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف ورزی کی آڑ میں گرفتار کے سالوں تک جیلوں میں قید کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ماہی گیروں کے گھروں میں بھوک و افلاس پیدا ہوجاتی ہے اور ان کے بچے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے بھیک مانگنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سمندر سے روزی حاصل کرنا ماہی گیروں کا فطری حق ہے، لیکن دونوں ممالک کی حکومتیں غریب ماہی گیروں کو گرفتار کر کے سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندر میں سرحدوں کے واضح نشانات نہیں، جس کی وجہ سے ماہی گیر ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہوجاتے ہیں اور سمندری سیکورٹی اہلکار انہیں گرفتار کر کے تشدد اور تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریڑھی گوٹھ کراچی کے 3 ماہی گیر گذشتہ 18 سالوں سے بھارتی جیل میں اذیت برداشت کر رہے ہیں، حکومتی سطح پر ان کی کوئی بھی مدد نہیں کی جاتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک کی طرف سے قیدیوں کی لسٹ ایک دوسرے کے حوالے کرنے والے عمل کو عملی جامہ پہنا کر انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :