تعلیم کا مقصد نوکری کی بجائے طلبہ کو زندگیوں میں آنے والی پیچیدگیوں کیلئے تیار کرنا ہے، وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد

جمعہ جنوری 10:40

ایبٹ آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2018ء) وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف اچھی نوکری کے لئے تیاری نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد طلبہ کو کل ان کی زندگیوں میں آنے والی پیچیدگیوں کے لئے تیار کرنا ہے، ماہر تعلیم آر ایس پروت کے مطابق اساتذہ تعلیمی اصلاحات کے سب سے بڑے حامی بھی ہیں اور ان اصلاحات کے لاگو نہ ہونے میں سب سے زیادہ رکاوٹ بھی ہیں، ہمیں اپنی اصلاح کرنا ہوں گی اس سے قبل کے قوم ہمیں اصلاح پر مجبور کرے جو ہمارے لئے بہت تکلیف دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے، قوم کو سب سے زیادہ امیدیں اساتذہ سے وابستہ ہیں۔

وہ گذشتہ روز اورینٹیشن ویک میں ایک لیکچر کے دوران اظہار خیال کر رہے تھے۔ لیکچر کا موضوع ’’قوم کے معمار کی ذمہ داریاں‘‘ تھا۔

اورینٹیشن ویک کا انعقاد ڈائریکٹوریٹ آف اکیڈمک کے زیراہتمام کیا گیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ ہمارے ہاں ناکافی اور غیر مناسب تعلیم نے ہمیں علم و شعور کی کمی، صلاحیتوں اور خود اعتمادی کا فقدان جیسے مسائل سے دوچار کر دیا ہے، اپنے مضمون کو جب تک ہم خود نہیںسمجھتے اور اسے سکھانے کے قابل نہیں ہو جاتے تب تک ہم کسی بھی صورت اچھے طالب علم پیدا نہیں کر سکتے اس کے لئے سب سے زیادہ ہے کہ ہم علم کو سکھانے کے طریقہ کار کو بہتر طریقہ کے ساتھ سمجھیں۔

وائس چانسلر نے کہا کہ ہماری قوم نتائج کی توقع سو فیصد کر رہی ہے لیکن ہم سو میں سے صرف پانچ فیصد نتائج دے رہے ہیں کیونکہ ہم نے تعلیم کو صرف لیکچر تک محدود کیا ہوا ہے جبکہ اس کے لئے باقی لوازمات جن میں تحقیق، گروپ ڈسکشن، مشقیں و دیگر کو یکسر نظر انداز کیا ہوا اور لیکچر صرف پانچ فیصد نتائج دے سکتا ہے اور اس سارے عمل کے دوران جو اچھے طلبہ آگے آتے ہیں اور ایسا صرف اور صرف ان کی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔

ڈاکٹر افتخار نے کہا کہ ہمیں اصلاحات کی طرف جانا ہے، ہمیں پڑھائی کے حوالہ سے بہترین ماحول فراہم کرنا ہو گا، اساتذہ کو لیکچر کے حوالہ سے تمام لوازمات بھی مہیا کرنے ہوں گے جس کے بہتر نتائج حاصل ہوںگے۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد یونیورسٹی کی طرف سے اورینٹیشن ویک کا انعقاد انتہائی خوش آئند ہے، اس ویک کے دوران ہم اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ انہیں ان ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کے لئے دور جدید کے تقاضوں سے بھی روشناس کرائیں گے، آج چین، یورپ اور امریکا کامیاب ہیں تو صرف اور صرف تعلیم کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک جیسے عظیم منصوبہ میں دیکھیں تو ہماری قوم کے نوجوان صرف لیبر کے طور پر کام کر رہے ہیں، اگر ہم تعلیمی میدان میں ان ممالک کے ہم پلہ یا ہم ان سے آگے ہوتے تو ہم سی پیک کے منصوبہ پر مزدوری نہیں بلکہ ہم اس پر راج کر رہے ہوتے لیکن چائنیز آ کر ہمیں ہدایات نہیں دے رہے ہوتے، ہمیں آج سوچنا ہو گا اور قوم کیلئے لیڈر شپ تیار کرنا ہو گی، اس کے لئے محنت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments