قرآن و سنت کے تحت قانون سازی کے ذریعے ہی جرائم کا سدباب ممکن ہے، نعیمہ کشور خان

جمعہ جنوری 14:32

قرآن و سنت کے تحت قانون سازی کے ذریعے ہی جرائم کا سدباب ممکن ہے، نعیمہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2018ء) جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے کہا ہے کہ ہم سب کو معصوم زینب کو اپنی بچی سمجھ کر مستقبل کا سوچنا ہوگا‘ پاکستان ایک نظریاتی اور اسلامی ملک ہے‘ یہاں ایسے واقعات رونما ہونا ہمارے منہ پر طمانچہ ہے‘ قرآن و سنت کے تحت قانون سازی کے ذریعے ہی ایسے جرائم کا سدباب ممکن ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں سانحہ قصور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے نعیمہ کشور خان نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں ‘ دیکھنے کی یہ بات ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی اور اسلامی ملک ہے، یہاں ایسے واقعات کا رونما ہونا ہمارے منہ پر طمانچہ ہے۔ اگر سو سے زائد بچیوں کو زیادتی کے بعد تیزاب کے ذریعے ختم کرنے والے جاوید اقبال نامی شخص کے واقعہ سے سبق حاصل کیا جاتا تو ایسے واقعات کو روکا جاسکتا تھا، اگر ڈی آئی خان میں خاتون کو برہنہ کرنے اور ایبٹ آباد میں لڑکی کو زندہ جلانے کے واقعہ کا صحیح معنوں میں نوٹس لے لیا جاتا تو شاید ایسے واقعات رونما نہ ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نے ایسے جرائم پر قرآن حکیم میں سزائیں مقرر کی ہیں، آج ہر کوئی سرعام پھانسی کی بات کرتا ہے مگر جب ہم حدود لاگو کرنے کی بات کرتے تھے تو ہم پر الزام تراشی شروع کردی جاتی، جب تک ہم اسلامی قانون سازی نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہوں گے، قرآن و سنت کے تحت قانون سازی کے ذریعے ہی ایسے جرائم کا سدباب ممکن ہے، قوانین پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رسم و رواج کی وجہ سے نکاح مشکل اور زنا آسان ہوگیا ہے، اس قسم کے سماجی مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے، ہم سب کو زینب کو اپنی بچی سمجھ کر سوچنا ہوگا، جب تک قوانین کا نفاذ اور ان پر عملدرآمد نہیں ہوگا اس طرح کے واقعات کا ارتکاب ہوتا رہے گا۔

Your Thoughts and Comments