قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا

جمعہ جنوری 14:37

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار وفاق کے زیر ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2018ء) قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی قبائلی علاقوں تک توسیع کے بل پر رپورٹ ایوان میں پیش کی۔

سید نوید قمر نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کی قبائلی علاقوں تک توسیع کے بل پر رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ سید خورشید شاہ اور سید نوید قمر نے کہا کہ یہاں بل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا ذکر تھا کمیٹی نے پشاور ہائی کورٹ کیا ہے۔

وزیر قانون محمود بشیر ورک نے تحریک پیش کی کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو قبائلی علاقوں تک توسیع دینے کے بل 2017ء کو زیر غور لایا جائے۔

ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی۔ اس کے بعد بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ یہ بل ایجنڈے میں شامل نہیں تھا اس کو بلڈوز کیا جارہا ہے۔ سپیکر نے کہا کہ ارکان کی اکثریت نے ایجنڈے کو معطل کرکے بل کو زیر غور لانے کی درخواست کی، بل میں غلطیاں ہیں‘ ہم اس پر بحث کرنا چاہتے تھے۔ نعیمہ کشور خان نے بل میں ترمیم پیش کی۔

وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک نے اس کی مخالفت کی۔ ایوان نے ترمیم مسترد کردی۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ ہم احتجاجاً اپنی ترمیم پیش نہیں کریں گے۔ قومی اسمبلی نے بل کی تمام شقوں کی منظوری دے دی۔ وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک نے تحریک پیش کی کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات تک توسیع دینے کے بل 2017ء کو منظور کیا جائے۔

قومی اسمبلی نے بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ بل جب قومی اسمبلی میں پیش ہوا تھا تو اس وقت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیار سماعت میں توسیع کا بل تھا تاہم بعد ازاں قائمہ کمیٹی میں اس میں ترمیم کی گئی اور اسے عدالت عالیہ پشاور کردیا گیا۔ اس بل کا مقصد فاٹا کے لوگوں کو ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق مرکزی دھارے میں لانے کے لئے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ پشاور کے اختیار سماعت کو مذکورہ علاقے تک توسیع دی جارہی ہے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے اور انہیں دستور کی مطابقت میں انصاف کے صحیح انصرام کا اہتمام کیا جاسکے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے اراکین نے بل کی منظوری کے دوران ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ بھی کیا تاہم ان کی جماعت کے وزیر برائے پوسٹل سروسز اور محمد خان شیرانی نے واک آئوٹ نہیں کیا۔

Your Thoughts and Comments