جانے والے دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر اپنے عمدہ کردار اور انسان دوست روئیے کی بنا پر ہمیشہ لوگو ں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں ، جسٹس(ر) حاذق الخیری

پروفیسر کفیل احمد کا شمار بھی انہی جیسے لوگوں میں ہوتا ہے اس دنیا سے ان کا چلے جانا بڑا صدمہ ہے انہیں ہمیشہ اپنا بیٹا مانا ہے، آرٹس کونسل میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب

جمعہ جنوری 16:59

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2018ء) جسٹس ریٹائرڈ حاذق الخیری نے کہا ہے کہ جانے والنے دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر اپنے عمدہ کردار اور انسان دوست روئیے کی بنا پر ہمیشہ لوگو ں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں پروفیسر کفیل احمد کا شمار بھی انہی جیسے لوگوں میں ہوتا ہے انکا اس دنیا سے چلے جانا ایک بڑا صدمہ ہے میںنے انہیں ہمیشہ اپنا بیٹا مانا ہے اور وہ میرے دل کے بہت قریب تھے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز کراچی پریس کلب میں معروف سماجی شخصیت حسن اما م صدیقی ، کراچی فلم اینڈ ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور کراچی پریس کلب کے اشتراک سے ماہر تعلیم جناح کالج کے سابق پرنسپل ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل کلچرل کے چیئرمین اور معروف سماجی شخصیت پروفیسر کفیل احمد مرحوم کے حوالے سے منقعدہ ایک تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اجلاس سے آرٹس کانسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ ،پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل کلچرل کے ڈائیریکٹر میجر (ر) مظہر، نسیم شاہ ،جسٹس (ر) ضیاء پرویز ،پروفیسر انیس زیدی ،جہانگیر خان ،پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان ،اویس ادیب انصاری ،یامین خان ،اطہر جاوید صوفی ،عبدالوسیع قریشی ،حسن امام صدیقی اور دیگر نے بھی خطاب کیا جسٹس (ر) حاذق الخیری نے اپنے خطاب میں مذید کہا کہ پروفیسر کفیل احمد دوسروں سے محبت کرنے والے انسان تھے وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے آرٹس کانسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں علم و ادب کے کئی نگینے اس دنیا سے چلے گئے ہیں لگتا ہے کہ تہذیب ٹکڑوں میں مر رہی ہے کسی استاد کا اس دنیا سے چلے جانا سماج میں ایک گہرا خلاء چھوڑ جاتا ہے پروفیسر کفیل کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر نہیں ہو سکے گا جسٹس (ر) ضیا ء پرویز نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں پروفیسر کفیل کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہیاد رکھا جائے گا پروفیسر انیس زیدی نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کیلئے کفیل صاحب نے بہت کام کیا ہے پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد نے کہا کہ مرحوم انتہائی خوش لباس اور خوش گفتار شخصیت کے مالک تھے میجر (ر) مظہر نے کہا کہ پروفیسر کفیل احمد کی اچانک موت سے گہرا صدمہ پہنچا ہے حسن امام صدیقی نے کہا کہ علم و ادب اور ثقافت کے شعبوں میں پروفیسر کفیل کی خدمات کو کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا تعزیتی ریفرنس میں سینیئر صحافی قیصر مسعود جعفری ،جنید رضوی ،ذیشان صدیقی ،حیدر علی حیدر ،اطہر اقبال ،اقبال راہی ،واجد حسین انصاری ،ریحان محمود ،آصف احمد خان و دیگر شخصیات شریک ہوئیں ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments