امن و استحکام قائم کر کے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کردیا،

ہمیں کامیابی کیلئے تما م فریقین پر مشتمل جامع سوچ اپنانا ہو گی ، امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے استعدادکار کو بہتر بنانا ہو گا، سیاسی استحکام ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، محاذ آرائیوں سے گریز کرنا ہو گا، ٹیکنالوجی کے انقلاب کے ساتھ خطرات کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے، سی پیک خطے میں جیوپولیٹیکل توازن تبدیل کررہا ہے،نوجوانوں پر مشتمل آبادی کا بڑا طبقہ ملک کیلئے قیمتی اثاثہ ہے،نوجوانوں کو سازگار ماحول فراہم کرکے امن و استحکام کیلئے متحرک کرنا ہو گا، داخلہ اور خارجہ امور ایک دوسرے سے منسلک ہیں ،انکے پالیسیوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں،پالیسی کی تیاری کے دوران مسلسل روابط اور تمام فریقین کی طرف سے تجاویز کی ضرورت پر زور دیاگیا،حکومت کے اہم اداروں کے ساتھ اہم ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کی اونرشپ اور ان کی شراکت بھی کامیابی اور عملدرآمد کیلئے ناگزیر ہے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا قومی داخلی سلامتی پالیسی -23 2018کی تشکیل کے حوالہ سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب

جمعہ جنوری 23:03

امن و استحکام قائم کر کے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کردیا،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2018ء) وفاقی وزیر داخلہ ، منصوبہ بند ی وترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ امن و استحکام قائم کر کے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کردیا، ہمیں کامیابی کیلئے ایک جامع سوچ اپنانا ہو گی جس میں تمام فریقین شامل ہوں،امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے استعدادکار کو بہتر بنانا ہو گا، سیاسی استحکام ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، محاذ آرائیوں سے گریز کرنا ہو گا، ٹیکنالوجی کے انقلاب کے ساتھ خطرات کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے، سی پیک نے خطے میں جیوپولیٹیکل توازن تبدیل کررہا ہے،نوجوانوں پر مشتمل آبادی کا بڑا طبقہ ملک کیلئے قیمتی اثاثہ ہے،نوجوانوں کو سازگار ماحول فراہم کرکے امن و استحکام کیلئے متحرک کرنا ہو گا، داخلہ اور خارجہ امور ایک دوسرے سے منسلک ہیں ،انکے پالیسیوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں،پالیسی کی تیاری کے دوران مسلسل روابط اور تمام فریقین کی طرف سے تجاویز کی ضرورت پر زور دیاگیا،حکومت کے اہم اداروں کے ساتھ اہم ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کی اونرشپ اور ان کی شراکت بھی کامیابی اور عملدرآمد کیلئے ناگزیر ہے۔

جمعہ کو وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت قومی داخلی سلامتی پالیسی (این آئی ایس پی) 2018-23ئ کی تشکیل کے حوالہ سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسداد دہشت گردی فورس، صوبائی حکومتوں کی داخلہ وزارتوں، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وزارت داخلہ کے حکام نے شرکت کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر داخلہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی داخلی سلامتی پالیسی 2018-23ئ کی تشکیل کیلئے روڈ میپ وڑن 2025ئ میں متعین کئے گئے اہداف پر مرکوز ہے جس میں امن، استحکام اور ترقی کے گہرے تعلق، جو کسی بھی قوم کیلئے ترقی کی کلید ہے، کا تصور دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے ملک میں امن و استحکام قائم کرکے اس کو ترقی کی جانب گامزن کر دیا ہے، اب ہمیں اس کے ثمرات سمیٹنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور امن و سلامتی کو درپیش نئے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اپنی استعداد کو بہتر بنانا ہو گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی استحکام ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس کیلئے کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی جہتوں کے ساتھ ایک وسیع موضوع کی شکل اختیار کر چکا ہے اور بہت اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کے انقلاب کے ساتھ خطرات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نے خطہ میں جیو پولیٹیکل توازن تبدیل کر دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان پر نئے جیو پولیٹیکل دباؤ بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کامیابی کیلئے ایک جامع اپروچ اختیار کرنی ہو گی جس میں تمام فریقین شامل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا طبقہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ ملک کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری ترجیح ہے کہ اپنے نوجوانوں کو سازگار ماحول فراہم کرتے ہوئے امن و استحکام کیلئے متحرک کریں۔ انہوں نے کہا کہ نئی داخلی سلامتی پالیسی میں سلامتی اور امن کی پالیسی کیلئے ایک نئے پیرا ڈائم کی ہدایت کی گئی ہے اور اہداف کے حصول کیلئے تجرباتی اور واقعاتی بنیاد پر مبنی اپروچ اختیار کی گئی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کے اہم اداروں کے ساتھ ساتھ اہم ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کی اونرشپ اور ان کی شراکت بھی کامیابی اور عملدرآمد کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پالیسی کی تیاری کے دوران مسلسل روابط اور تمام فریقین کی طرف سے تجاویز کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ اور خارجہ امور ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ان کے داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دریں اثنائ پالیسی پلاننگ مرتب کرنے اور داخلی فریقین کے ساتھ ابتدائی ملاقات، ڈیسک ریسرچ، متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی نشستیں، قومی داخلی سلامتی کانفرنس، ماہرین کے انٹرویوز، اعداد و شمار کا تجزیہ، فیڈ بیک کیلئے ابتدائی مسودہ جاری کرنے، مختلف خیالات کو ہم آہنگ بنانے، حتمی مسودہ تیار کرنے، انتظامی منظوری حاصل کرنے، عملدرآمد کیلئے نظام قائم کرنے اور پالیسی کے اجراء /فروغ کیلئے فریم ورک میں اقدامات وضع کئے گئے ہیں۔

پالیسی میں امن و سلامتی کو بہتر بنانے کیلئے چار اہم معاملات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے جس میں مشترکہ وڑن پیدا کرنا، قانون کی حکمرانی قائم کرنا، سیاسی استحکام کو یقینی بنایا اور سماجی انصاف مہیا کرنا شامل ہیں۔ پالیسی فریم ورک کی تیاری کیلئے سیاسی جماعتوں، پالیسی سازوں، تجزیہ کاروں، تعلیمی ماہرین، دانشوروں، صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیات، مذہبی سکالرز، قانونی ماہرین، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور خواتین اقلیتوں اور نوجوانوں سمیت مختلف طبقات کے نمائندوں سے بھی مشاورت کی جائے گی جو کہ اس کے اہم فریق ہیں۔

پالیسی فریم ورک کیلئے حکومتی اداروں کی طرف سے جو چیزیں درکار ہیں ان میں اہم اقدامات کا جائزہ لینا جو کہ سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ناگزیر ہے، اس وقت موجود رکاوٹوں کا جائزہ لینا جن کی وجہ سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مؤثر مشاورت شامل ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ماضی میں اسی طرح کی جو پالیسی لائی گئی اس پر عملدرآمد میں کمی رہی، اس لئے عملدرآمد کی جامع حکمت عملی، اس کی مانیٹرنگ اور تجزیے کا نظام اور اس کیلئے دستیاب وسائل کو بھی پالیسی فریم ورک میں شامل کیا جائے گا اور اس حوالہ سے زیادہ توجہ دی جائے گی۔

اجلاس کے شرکاء نے پالیسی کی تیاری کے عمل کے تفصیلی روڈ میپ کی منظوری دی جس کے تحت اہم فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاسوں کے تین راؤنڈ اور ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔

Your Thoughts and Comments