روئی کے بھائو میں مجموعی طورپر مندی کا رجحان،فی من بھائومیں200روپے کی کمی، ہفتہ وار رپورٹ

حکومت کی جانب سے روئی کی درآمدی ڈیوٹی میں 9 فیصد کمی کے اعلان کے بعد ملز مالکان نے مقامی مارکیٹ سے روئی کی خریداری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے، نسیم عثمان

ہفتہ جنوری 14:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جنوری2018ء)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران مجموعی طورپر مندی کا رجحان رہا، کاروباری حجم میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ریکارڈ کی گئی۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کم کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7500 روپے کے بھائو پر بند کیا۔ صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھائو فی من 6500 تا 7800 روپے رہا جبکہ پھٹی کا بھائو بھی فی 40 کلو 2800 تا 3500 روپے رہا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ حکومت نے روئی کی درآمدی ڈیوٹی میں 9 فیصد کمی کرنے کا اعلان کیا ہے کہ اس کے بعد ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز مالکان نے مقامی مارکیٹ سے روئی کی خریداری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ گو کہ ملز مالکان اس وجہ سے پریشان ہیں کہ 8 جنوری سے عمل میں آنے والی ٹیکس رعایت کے متعلق ایس آر اوتاہم جاری نہیں کیا گیا دوسری جانب پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے ایک اعلی سطح کے وفد نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے گزارش کی کہ جب تک کپاس کے کاشتکاروں کے پاس پھٹی کا اور جنرز کے پاس روئی کا ذخیرہ موجود ہے اس وقت تک درآمدی ڈیوٹی کے متعلق ایس آر اوجاری نہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم نے ان کے مفادات کا خیال کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دریں اثنا پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے 15 جنوری تک ملک میں روئی کی پیداوار کے اعداد وشمار جاری کئے ہیں ،جس کے مطابق اس عرصے تک ملک میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 13 لاکھ 34 ہزار گانٹھوں کی ہوئی جو گزشتہ سال کی اسی عرصے کی پیداوار سے 7.58 فیصد زیادہ ہے۔ نسیم عثمان کے مطابق اس سال کپاس کی کل پیداوار ایک کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ تاہم بھارت سے درآمد کی ہوئی روئی کی شپمینٹ پاکستان پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ بین الاقوامی کپاس منڈیوں میں روئی کے بھائو میں مجموعی طورپر تیزی کا عنصر ہے۔