حریت رہنمائوں کے خلا ف ’’این ائی اے‘‘کی چارج شیٹ سیاسی انتقام کی سوا کچھ نہیں،سید علی گیلانی

بھارت حریت رہنمائوں کی کردار کشی کے ذریعے انکے حوصلے پست کرنا چاہتی ہے ،ْاپنے مذمو م ارادے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا ،ْ بیان

ہفتہ جنوری 14:41

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جنوری2018ء)مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی تحقیقاتی ادارے’ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘کی طرف سے تہاڑ جیل میں نظر بندآزادی پسندکشمیریوں کے خلاف دائر کی جانے والی چارج شیٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے حریت رہنماؤں الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین، شاہد الاسلام، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف، کشمیری نوجوان جاوید احمد بٹ اور کشمیری تاجر ظہور احمد وٹالی کے خلاف12 ہزار 794 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائرکر دی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں این آئی اے کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر سیاسی انتقام گیری ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 12,794 صفحات پر مشتمل طویل چارج شیٹ اور 300فرضی گواہوں کو نامزد کرنے کا مقصد ان کی نظر بندی کو طول دینا ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ حریت رہنمائوں اور دیگر کو سرینگر سے گرفتار کرکے دلی لے جا کر قید کرنا اوروہیں پر مقدمہ چلانے کا کوئی آئینی، انسانی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور این آئی اے کا کوئی قانونی اور دستوری اختیار نہیں ہے کہ وہ جموں کشمیر میں کارروائیاں انجام دے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیری گزشتہ 70برس سے بھارتی ظلم وجبر کا سامنا کررہے ہیں اور بھارت کی یہ غلط فہی ہے کہ وہ فوجی طاقت سے ان کے جذبہٴ حریت کو دبا سکے گا ۔انہوں نے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بِپن راوت کے حالہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں نے سوپور، بجبہاڑہ، گاؤکدل، ہندواڑہ، چھٹی سنگھ پورہ، ، کپواڑہ، زکورہ جیسے قتل عام دیکھے ہیں اور وہ اپنی تحریک کو اسکے منطقی انجام تک پہچانے کے لیے پرعزم ہیں ۔

حریت رہنمائوں اور تنظیموں فریدہ بہن جی، مشتاق الاسلام،معراج الدین صالح اور جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ نے بھی اپنے بیانات میں حریت رہنمائوں او ر دیگر کیخلاف این آئی اے کی چارچ شیٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت حریت رہنمائوں کی کردار کشی کے ذریعے انکے حوصلے پست کرنا چاہتی ہے لیکن وہ اپنے مذمو م ارادے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا۔انہوں نے شہدائے گائو کدل کو انکی شہادت کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔ بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے علاقے گائوکدل میں 21جنوری 1990کو پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 50سے زائد افراد کو شہید کر دیا تھا۔