وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی زیر صدارت یو ایس ایف کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس

چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں کو انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ایجنڈے پر غور کیاگیا ہم پاکستان کو ڈیجیٹل شعبہ میں آگے لے جا یا جا سکتا ہے ۔ ہم نے 50ہزار والے دستکاروں کو ٹیکنالوجی کی فراہمی کا عزم کر رکھا ہے،انوشہ رحمان

جمعہ فروری 22:01

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2018ء) یونیورسل سروس فنڈ کمپنی (یو ایس ایف کمپنی) کے بورڈآف ڈائریکٹر کا 57واں اجلاس 2فروری (جمعہ) کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ یو ایس ایف کمیٹی کے بورڈ کی چیئر پرسن اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام انوشہ رحمن نے اجلاس کی صدارت کی۔بورڈ نے یو ایس ایف کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو افسر رضوان مصطفیٰ میر کا بورڈ کے نئے ڈائریکٹر کے طور پر خیر مقدم کیا ۔

بورڈ نے پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں کو انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ایجنڈے پر غور کیا ۔ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ کاروبار کا 80فی صد ہیں پاکستان کی آبادی 20کروڑ ہے اور ان کاروباری اداروں سے 65ملین ورک فورس ہے ۔

(جاری ہے)

بورڈ نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں کو آن لائن لا کر اور انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی فراہمی سے صلاحیتوں کے بھر پور ثمرات حاصل کئے جا سکتے ہیں اورپاکستان کو فی کس زیادہ آمدنی والا ملک بنایا جا سکتا ہے ۔ انوشہ رحمن نے کہا کہ ہم پاکستان کو ڈیجیٹل شعبہ میں آگے لے جا یا جا سکتا ہے ۔ ہم نے 50ہزار والے دستکاروں کو ٹیکنالوجی کی فراہمی کا عزم کر رکھا ہے ۔

بورڈ نے ایک سب کمیٹی بھی تشکیل دی جس کے سربراہ جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم ہیں اور ممبر ٹیلی کام مدثر حسین اور ایگنائیٹ کمپنی کے سی او یوسف حسین اس کے رکن ہیں ۔ یہ کمپنی یو ایس ایف کمپنی کے حتمی طور پر بنائے گئے ای کامرس پراجیکٹ کی نگران ہو ں گی ۔بورڈ کے اراکین سیکرٹری آئی ٹی رضوان بشیر خان ، ممبر ٹیلی کام مدثر حسین ،سی ای او عامر ابراہیم ، پی ٹی سی ایل کے سی ای او ڈینئل ریٹرز، وائس پریذیڈنٹ اظفر منظور ، چیئر مین کنزیومرز ایسوسی ایشن کو کب اقبال اور یو ایس ایف کمپنی کی سینئیر مینجمنٹ نے بھی اجلاس میںشرکت کی۔

متعلقہ عنوان :