خیرپور کے نواحی گائوں تالپر وڈا میں مبینہ کروڑوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والا سیم نالا ٹوٹ جانے سے علاقے کی سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہونے لگی

ضاگیر شہزادہ علی اصغر تاجھنگو تک سیم و تھورکے خاتمہ کے لئے تعمیر کیا جانے والے نالی کے ٹوٹنے سے متعدد دیہات سیم و تھور کی زد میں آگئے

جمعہ فروری 22:22

خیرپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2018ء)خیرپور کے نواحی گائوں تالپر وڈا میں مبینہ کروڑوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والا سیم نالا ٹوٹ جانے سے علاقے کی سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہونے لگی۔ضاگیر شہزادہ علی اصغر تاجھنگو تک سیم و تھورکے خاتمہ کے لئے تعمیر کیا جانے والے نالی کے ٹوٹنے سے متعدد دیہات سیم و تھور کی زد میں آگئے۔صالح بروہی۔

رمضان مھرانی۔ احمد آباد۔بیڑو مھرانی۔جاگیر علی اکبر۔کرڑ مھرانی۔جان محمد تمرانی سمیت دیگر دیہاتوں میں سیم و تھور میں اضافہ۔سیم کے زہریلے پانی میں اضافہ کے باعثدیہاتیوں کی آمدورفت میں مشکلات۔آبادگار زرعی اجناس۔سبزی مارکیٹ تک رسائی نہیں کرسکتے۔ متاثرہ دیہاتی وآبادگار۔تفصیلات کے مطابق گائوں قلندر بخش بڑدی۔

(جاری ہے)

گائوں میرجت۔

گائوں جمال دین بڑدی۔صالح بروہی۔ رمضان مھرانی۔ احمد آباد۔بیڑو مھرانی۔جاگیر علی اکبر۔کرڑ مھرانی۔جان محمد تمرانی سمیت دیگر دیہاتوں کے رہائشیوں اوشاق ببر۔منظور مھرانی۔الیاس سونیہ۔احسان بروہی۔گل محمد۔ممتاز جتوئی اور دیگر دیہاتیوںنے احتجاج کرتے ہوئے بتایاکہ گائوںتالپر وڈا کے قریب سندھ حکومت کی جانب سے سیم و تھور میں دنبدن اضافے کی روک تھام کے لئے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ سیم نالا ٹھیکیدار کی جانب سے تعمیراتی کام کے دوران ہی مبینہ غیر معیاری کام کی وجہ سے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا تھا جس کی شکایت مقامی افسران و عوامی نمائندوں کی دی تھی پر کوئی تدارک نہیں ہوا تھااب سیم نالے میں مختلف مقامات سے ٹوٹنے کی وجہ سے سیم کا زہریلا پانی علاقے کے وسیع رقبے پر جھیل نمائی کا منظر پیش کررہا ہے جس کے سبب سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی پر سیم کے کھڑے پانی کی وجہ سے ان کی اراضی بنجر ناقابل کاشت ہونے لگی ہے اور درجنوں دیہات کے اطراف میں سیم کے پانی سے ان کا زمینی راستہ نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کے معصوم بچوں کی زندگیوں کا خطرات لاحق ہے کہ کہیں گھر والوں کی نظر سے اوجھل ہوکر کھیلنے کے دوران سیم کے پانی کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں اور زندگی کی بازی ہار جائیں۔

مظاہرین کا کہناتھا کہ سیم و تھور میں مسلسل اضافے کے سبب ان کا زمینی رابطہ منقع ہوتا جارہا ہے وہ زرعی اجناس و سبزیاں مارکیٹ تک لے جانے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے سندھ حکومت اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ سیم نالا بنانے والے ٹھیکیدار کے خلاف قانونی کاروائی کرکے سیم نالے کی دوبارہ تعمیر کراکے متاثرہ دیہاتیوں کو مشکلات سے نجات دلائیں گے۔۔