سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نا اہلی سے متعلق درخواست مسترد کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر فروری 14:50

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نا اہلی سے متعلق درخواست ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 فروری 2018ء) : سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نااہلی کے لیے شیخ رشید کی جانب سے دائر درخواست مسترد کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نا اہلی سے متعلق شیخ رشید کی درخواست پر سماعت کی۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ایل این جی معاہدے میں مبینہ کرپشن کو بنیاد بنا کر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو نا اہل قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ مقدمہ تیسری مرتبہ عدالت میں آیا ہے ، تینوں مرتبہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں حقائق بتائیں ۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم کو کس آرٹیکل کے تحت نا اہل کر دیں؟ میرے خیال سےایل این جی معاہدہ دو حکومتوں کے مابین ہوا ہو گا۔ اور معاہدے میں ضرروی چیزوں کا خیال رکھا گہا ہو گا۔ میرے مطابق ایل این جی معاہدہ 184تھری کے زمرے میں نہیں آتا۔

عدالت نے کہا کہ ایل این جی کرپشن کیس کی تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کریں۔ دوران سماعت شیخ رشید کے وکیل اور چیف جسٹس کے مابین دلچسپ مکالمہ ہوا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے بادل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کھوسہ صاحب ایسی باتیں نہ کریں ، یہ تو اللہ کی رحمت ہے۔ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ، آپ دلائل جاری رکھیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ان معاملات میں ہم اب مداخلت نہیں کریں گے ، ریکوڈک، اسٹیل مل کی طرح اب ایسے کیسز میں مداخلت نہیں کریں گے ، پہلے ہی ان کیسز میں مداخلت کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر ملک کو نقصان پہنچا۔ اب ہم سیاسی مقدمات نہیں سنیں گے ،ورنہ سپریم کورٹ میں پھر سیاست کو بنیاد بنا کر رٹ دائر ہونا شروع ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی معاہدے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے نیب کے پاس جائیں۔ نیب آزاد ادارہ ہے ، ملک میں ادارے اسی لیے بنائے گئے ہیں کہ وہ قومی خزانے کو دیکھیں ۔