وزیر اعظم کے گرین پاکستان پروگرام کا ایک سال مکمل ہونے پر یادگاری ٹکٹ جاری،

پروگرام کے تحت3 لاکھ ڈاک ٹکٹس اندرون ملک و بیرون ملک تقسیم کئے جائیں گے

پیر فروری 17:18

وزیر اعظم کے گرین پاکستان پروگرام کا ایک سال مکمل ہونے پر یادگاری ٹکٹ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2018ء) حکومت پاکستان نے وزیر اعظم کے گرین پاکستان پروگرام کا ایک سال مکمل ہونے پر یادگاری ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس حوالے سے ایک تقریب وزارت موسمیاتی تبدیلی میں منعقد کی گئی، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہداللہ خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ یادگاری ٹکٹ کے اجراء کے موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام گرین پاکستان پروگرام کے ایک سال کے مکمل ہونے پر کیا گیا ہے۔

پروگرام کے تحت تین لاکھ ڈاک ٹکٹس پاکستان پوسٹ سروس کی جانب سے اندرون ملک و بیرون ملک تقسیم کئے جائیں گے۔ یہ کام پاکستان کی بین الاقوامی برادری میں ایک شاندار تصویر پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف اقسام کے مناظر اور موسموں کی موجودگی کی وجہ سے طرح طرح کے درختوں اور مختلف اقسام کے جانوروں کو تحفظ فراہم کرنے میں بہت سازگار ہے تاہم جنگلی حیات اور جنگلات بڑھتی ہوئی آبادی اور آب و ہوا کی تبدیلی میں اضافہ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

مشاہد اللہ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بجٹ میں عوامی سرمایہ کاری بہت کم ہے جس کے نتیجے میں کی جانے والی کوششیں ملک کے قدرتی وسائل میں ہونے والی خرابی کی شرح کے مطابق بہت کم ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعظم پاکستان نے ملک کی جنگلی حیات کی آبادی میں تیزی سے کمی اور جنگلات کی کٹائی کے تدارک کے طور پر ملک میں جنگلات اور جنگلی حیات کے وسائل کو بحال کرنے کے لئے ’’گرین پاکستان پروگرام‘‘ 9 فروری 2017ء کو شروع کیا۔

گرین پاکستان پروگرام کے تحت جنگلات کے وسائل کی بحالی کے منصوبے کی تخمینہ لاگت 3.652 ارب لگایا گیا ہے جبکہ ’’گرین پاکستان پروگرام ۔ جنگلی حیات کی بحالی‘‘ کے منصوبے کی تخمینہ لاگت 1.065 ارب ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس طرح کے بڑے قومی منصوبوں کو قومی اور عالمی سطح پر یادگار بنانے کی ضرورت کے پیش نظرگرین پاکستان پروگرام کے ایک سال کے مکمل ہونے پر یادگاری ٹکٹوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم کے علاوہ وزارت موسمیاتی تبدیلی، پاکستان پوسٹ، محکمہ جنگلات اور گرین پاکستان پروگرام کے حکام بھی موجود تھے۔

متعلقہ عنوان :