ہندو انتہا پسند تنظیمیں بی جے پی اور آر ایس ایس جموں کے مسلمانوں کو ہراساں کر رہی ہیں، گوجر بکروال برادری

منگل فروری 11:30

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) مقبوضہ کشمیرکے جموں ریجن کی گوجر بکروال برادری نے کہاہے کہ ہندو انتہا پسند تنظیموں بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈر اور کارکن سانبہ اور کٹھوعہ کے اضلاع میں انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قبائلی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین طالب حسین نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں اضلاع کے مسلمانوں کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان جموں سے ہجرت کر جائیں۔

بھارتی پولیس کی کرائم برانچ کاکہنا ہے کہ آٹھ سالہ بچی آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کا مرکزی ملزم دیپک کھجوریہ اس گھنائونے جرم میں ایک ملوث نہیں ہے اسے سیاست دانوں خاص طورپر بی جے پی کے ہیرانگر سے رکن اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے دونوں اضلاع میںمسلمانوں کو ہراساں کرنے والی فرقہ پرست قوتوں کو بے نقاب کرنے پر زوردیا۔ طالب حسین نے کہاکہ بی جے پی ان اضلاع میں اپنے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے کیلئے مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

انہوںنے کہاکہ بی جے پی کٹھ پتلی وزیر جنگلا ت لال سنگھ کومسلمانوںکو ہراساں کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے جو مسلمانوں کو جبری طورپر انکی زمینوںسے بے دخل کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بی جے پی کی انتظامیہ فاریسٹ ایکٹ پر عملدرآمد نہیں کر رہی جو وزارت جنگلات کو کئی نسلوں سے جنگلات کی اراضی پر رہنے والے لوگوں کو وہاں سے نکالنے سے روکتا ہے۔ طالب حسین نے کہاکہ پی ڈی پی اس ایکٹ پر عمل درآمد نہ ہونے پر مسلسل خاموش ہے۔