قومی اسمبلی کا انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کیلئے زیادہ سے زیادہ قومی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور، اس حوا لے سے قرارداد کی منظوری دیدی گئی

منگل فروری 15:27

قومی اسمبلی کا انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کیلئے زیادہ سے زیادہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) قومی اسمبلی نے ملک میں انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کے لئے زیادہ سے زیادہ قومی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قرارداد کی منظوری دیدی ہے۔ منگل کو بیلم حسنین نے قرارداد ایوان میں پیش کی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ حکومت پہلے ہی مذہبی ہم آہنگی کے لئے کام کر رہی ہے، اقلیتی کمیشن نے بنایا ہے، اس میں مسلم اور غیر مسم ہر ایک کی نمائندگی ہے۔

یہ مذہبی تہوار مذہبی عقیدت سے سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عالمی کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، تمام مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء اور دانشور شرکت کریں گے۔ حکومت اس حوالے سے تجاویز کا خیر مقدم کرے گی۔

(جاری ہے)

بیلم حسنین نے کہا کہ لوگوں کے دلوں میں وسعت پیدا ہونی چاہیے۔ انسان کو انسانیت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

مذہب کے نام پر تشدد سے گریز کرنا چاہیے۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ مک میں ایک دن روزہ اور عید نہیں ہوتی، اگر سعودی عرب کے ساتھ روزہ اور عید ہو تو یہ ملک و قوم کے لئے اچھا ہو۔ حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر قل کرنے سے گریز کرنا چاہیے، دنیا کے تمام مسلمان ممالک میں سوائے ایران پاکستان کے ایک ہی دن روزہ اور عید ہوتی ہے۔

اگر سعودی عرب کے ساتھ ہم بھی عید روزہ کر لیں تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ شازیہ مری نے کہا کہ صرف تقاریب کافی نہیں ہیں، مذہبی عدم برداشت آج بہت زیادہ ہے، ہم پاکستان سے دہشت گردی، عسکریت پسندی، نفرت آمیز تقاریر ختم نہیں کر سکے، حکومت اپوزیشن مل کر ایک لائحہ عمل بنائے تاکہ ان بیماریوں کا خاتمہ ہو۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ مسیحی برادری کا مطالبہ ہے کہ وہ اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستیں براہ راست انتخاب سے پر کی جائیں، گوجرہ جیسے واقعات وقوع پذیر ہونے کی وجوہات پر غور کیا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا اس حوالے سے کردار کلیدی ہونا چاہیے۔ یہ قرارداد منظور ہونی چاہیے۔ ثریا اصغر نے کہا کہ اسلام حسن اخلاق کا درس دیتا ہے، ہمارے معاشرے میں عدم برداشت ہے، قرارداد کے حق میں سید عیسیٰ نوری نے بھی بات کی۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ یہ سن کو افسوس ہوتا ہے کہ جب یہ بات کی جاتی ہے کہ مذہب انسان کو لڑاتا ہے۔