عاصمہ جہانگیر کی شخصیت اور ان کی خدمت مدر ٹریسا سے کسی طور پر کم نہیں ،ْسینیٹر مشاہد اللہ خان

اراکین سینٹ کا ممتاز قانون دان و انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش عاصمہ جہانگیر جدوجہد کا نام ہے ،ْان کے لئے یاد گار ہونی چاہیے ،ْخواتین کو انسانی حقوق کی بالادستی کے لئے عاصمہ جہانگیر کے نقش قدم پر چلنا چاہیے سینیٹر جاوید عباسی ،ْ سینیٹر اعظم موسیٰ خیل ،ْ سینیٹر الیاس بلور ،ْ سینیٹر سحر کامران ،ْ سینیٹر عثمان کاکڑ ،ْ سینیٹر جہانزیب جمالدینی ،ْ مشاہد حسین سید کا اظہار خیال

منگل فروری 15:58

عاصمہ جہانگیر کی شخصیت اور ان کی خدمت مدر ٹریسا سے کسی طور پر کم نہیں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) اراکین سینٹ نے ممتاز قانون دان و انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر جدوجہد کا نام ہے ،ْان کے لئے یاد گار ہونی چاہیے ،ْخواتین کو انسانی حقوق کی بالادستی کے لئے عاصمہ جہانگیر کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔منگل کو سینٹ اجلاس کے دور ان معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کے وفات پر خصوصی تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں اراکین سینٹ نے عاصمہ جہانگیر کی شخصیت کے حوالے سے کئی پہلو اجاگر کئے اور ان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔

سینیٹر سردار اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر مظلوموں کی آواز تھیں۔ نڈر اور غیر جمہوریت پسند قوتوں کی مخالف تھیں، وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر تھیں۔

(جاری ہے)

سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ، میڈیا کی آزادی، جمہوریت کے استحکام اور انسانی حقوق کی بلندی کیلئے بے مثال جدوجہد کی، وہ سیاسی سیاسی وابستگی کی بجائے حقیقت اور سچائی کا ساتھ دیتی تھیں، ان سے ہونے والی زیادتی پر شرمندہ ہوں اور دل سے معافی مانگتا ہوں۔

سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق اور غریبوں کی داد رسی کے لئے دبنگ آواز تھیں، انہوں نے ہمیشہ بے آواز طبقوں کے لئے آواز اٹھائی، وہ رنگ نسل اور قوم سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق کی خلاوف ورزی پر آواز اٹھاتی تھیں، اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔ انہوں نے ہمیشہ آمریت کے خلاف اور انصاف کی سربلندی کیلئے جدوجہد کی۔

وہ عدلیہ بحالی تحریک کے ہر اول دستہ میں شامل تھیں۔ سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر جدوجہد کا نام ہے،انہوں نے ہمیشہ خواتین کے حقوق، سیاسی قیدیوں، آئین کی سربلندی کیلئے آواز اٹھائی، بے نظیر بھٹو جس طرح پاکستانی عوام کی امید تھیں اسی طرح عاصمہ جہانگیر کا نام انسانی حقوق کی بلندی کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وہ عزم اور حوصلے کی علامت تھیں، ان کی وفات عظیم نقصان ہے، عاصمہ جہانگیر کا نام بھی جمہوریت کے لئے قربانیاں دینے والوں کی دستور گلی میں شامل کیا جائے گا۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ آمریت کی مخالفت کی، انہوں نے ہمیشہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی جمہوریت حکومتوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ وہ دہشت گردی، فرقہ واریت اور مذہبی تنگ نظری کے خلاف تھیں، انہوں نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کی، خواتین کو انسانی حقوق کی بالادستی کے لئے عاصمہ جہانگیر کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ ہم عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیت کو کھو چکے ہیں جو ایک بار ہی پیدا ہوتی ہیں، انہوں نے جمہوری اداروں کے تقدس کے ئے آواز اٹھائی، انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف زیادتی پر آواز اٹھائی، انسانیت دوست خاتون تھیں، وہ ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہیں گی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے لئے یاد گار ہونی چاہیے تاکہ آنے والی نسل کو ان کے کارناموں سے آگاہ کیا جا سکے۔

سینیٹر تنویر الحق تھانوی نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے اپنی صلاحیتوں سے یہ مقام حاصل کیا، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ سینیٹر شاہی سید عاصمہ جہانگیر بہادر، نڈر، بے باک، جمہوریت پسند، انسان دوست اور احترام انسانیت پر یقین رکھنے اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی خاتون تھیں۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے انسانی خدمت، قانون کی بالادستی اور خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی، بے نظیر بھٹو، کلثوم نواز اور عاصمہ جہانگیر نے بے مثال جدوجہد کی، ان کی خدمات مدتوں یاد رہیں گی، دستور گلی میں ان کا نام شامل ہونا چاہیے۔

سینیٹر گیان چند نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر ہمیشہ اصولوں پر کھڑی رہیں، کبھی جھکی نہیں، بکی نہیں۔ انہوں نے مظلوموں کے مقدمات مفت میں لڑے۔ جمہوریت کی بالادستی کے لئے کام کرنے والوں کو ایوارڈز کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کو ان کی خدمات پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے ظم، جبر، تشدد، نفرت، تفریق اور آمریت کے خلاف آواز بلند کی، بیرونی دنیا نے بھی ان کے کردار کا اعتراف کیا۔

ان جیسی شخصیات کی خدمات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ سینیٹر غوث بخش نیازی نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے بے مثال جدوجہد کی اور پاکستان کا نام روشن کیا۔ سینیٹر سلیم ضیاء نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر پاکستان کا سرمایہ تھیں، ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء مشکل سے پورا ہو گا۔ سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا جمہوریت پر پختہ یقین تھا، نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے، ہم سب کو مل کر ان کا مشن آگے بڑھانا ہو گا۔

سینیٹر گل بشریٰ نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر مظلوموں، غریبوں کی آواز تھیں۔ سینیٹر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے مظلوم طبقوں کے لئے بہت کام کیا، ان کی خدمات کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی خواتین کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نیکی اور حوصلہ مندی کا مجموعہ تھیں۔

وفاقی وزیرسینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر ہمہ گیر شخصیت تھیں، سیاستدان، انسانی حقوق کی علمبردار تھیں، آئین و قانون کی بالادستی پر نہ صرف یقین رکھتی تھیں بلکہ اس کے لئے جدوجہد کرتی تھیں۔ ان کی چانک وفات سے سب کو دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ برے وقت میں ہر سیاسی جماعت کا ساتھ دیا اور ہر سیاسی جماعت کی حکومت میں اس کا قبلہ درست کرنے کے لئے جدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی شخصیت اور ان کی خدمت مدر ٹریسا سے کسی طور پر کم نہیں۔ انہوں نے ہر شخص کے لئے آواز اٹھائی جس سے زیادتی ہوئی ہو، خواتین کو با اختیار بنانے، ان کی حوصلہ افزائی اور انہیں حقوق دلانے کے لئے بھرپور جدوجہد کی، وہ تاریخ ساز شخصیت تھیں۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ مک کے بہت سارے لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں گے، انہوں نے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کیا ہے۔بعد ازاں سینٹ کا اجلاس (آج) بدھ کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا

متعلقہ عنوان :