وزیر اعلی سندھ کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ،عدالت کا چیف سیکرٹری کو 20 فروری تک تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم

سید مراد علی شاہ اور کابینہ نے پولیس رولز بنانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا، بیرسٹر فیصل صدیقی کا درخواست میں موقف

منگل فروری 17:25

وزیر اعلی سندھ کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ،عدالت کا چیف سیکرٹری کو ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) سندھ ہائیکورٹ نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر چیف سیکرٹری کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ دو رکنی بینچ کے روبرو وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ رضوان میمن کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر فیصل صدیقی نے کہا کہ وزیراعلی سندھ اور کابینہ نے پولیس رولز بنانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلے سے متعلق کیس میں عدالت نے حکومت سندھ کو پولیس رولز وضع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ بیرسٹر فیصل نے کہا کہ سندھ کابینہ کا 2 بار اجلاس ہوا لیکن پولیس رولز بنانے سے متعلق کارروائی نہیں کی گئی۔ عدالت نے پولیس رولز بنانے کے ساتھ آئی جی سندھ کو مکمل اختیارات دینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد چیف سیکرٹری سندھ کو کو 20 فروری تک تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔