پاکستان کو عالمی معیشت کا رکن بنانے ، بہترین سرمایہ کاری کیلئے جلد الیکٹرونک ویزا کے اجراء پر غورکررہے ہیں

وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال کا لندن میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ ، پاکستانی کمیونٹی سے خطاب

منگل فروری 18:07

پاکستان کو عالمی معیشت کا رکن بنانے ، بہترین سرمایہ کاری کیلئے جلد ..
لندن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی معیشت کا رکن بنانے اور بہترین سرمایہ کاری و سیاحتی منزل بنانے کیلئے سرمایہ کاروں اور وزیٹرز کیلئے دیگر ممالک کی طرح جلد الیکٹرونک ویزا کے اجراء پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستانی ہائی کمیشن لندن میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ہم اپنے دفتر خارجہ کے ساتھ مشاورت سے جلد ای ویزا کے اجراء پر کام کر رہے ہیں تاکہ دوسرے ممالک کی طرح حقیقی وزیٹرز اور سرمایہ کاروں کو یہ ویزا جاری ہو سکے اور پاکستان دنیا میں سیاحت اور سرمایہ کاری کیلئے بہترین منزل ہو۔

اس موقع پر برطانیہ میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر زاہد حفیظ چوہدری، لارڈ قربان، یو کے پارلیمنٹ کے ممبران الیاس امین قریشی اور محمد یٰسین کے علاوہ پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام موجود تھے ، اس کے علاوہ برطانوی پاکستانی شہریوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

(جاری ہے)

پروفیسر احسن اقبال جو ان دنوں برطانیہ کے سرکاری دورہ پر ہیں، نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت نے درست سمت گامزن ہے اور اس کا دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013ء میں عام انتخابات کے بعد جب ہماری حکومت قائم ہوئی تو اس وقت ملکی معیشت کی حالت ناگفتہ بہ تھی، 18 سے 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی، صنعتوں کو لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گیس اور بجلی نہیں مل رہی تھی، پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح 3 فیصد پر منجمد ہو چکی تھی، امن و امان کی صورتحال خطرناک ہو چکی تھی اور روزانہ کی بنیاد پر بم دھماکوں میں درجنوں افراد جاں بحق ہو رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نیوز ویک نے اس وقت اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کو عراق سے بھی زیادہ خطرناک ملک قرار دیا تھا، بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاکستان پتھر کے دور کا ایک ملک لگ رہا تھا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت اور ان کی ٹیم کے دن رات کام کی وجہ سے ان مسائل کو کم کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ چار سال کی انتھک کوششوں اور پائیدار پالیسیوں، توانائی کے منصوبوں کے آغاز کی وجہ سے نہ صرف گھریلو صارفین کو 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکی بلکہ انڈسٹریل سیکٹر کو بھی بلاتعطل بجلی فراہم ہوئی، 11000 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں سے ملک میں امن و امان کی صورتحال بحال ہوئی اور فاٹا میں امن یقینی ہوا، کراچی میں امن بحال ہوا، 46 ارب ڈالر کے چین۔۔پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر دستخط ہوئے اور اس میں 29 ارب ڈالر کے منصوبے متحرک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 70 سالوں سے نظر انداز کئے گئے تھرکول منصوبے کو موجودہ حکومت نے شروع کیا جہاں سے سعودی عرب اور ایران کے برابر انرجی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھرکول سے آئندہ چار سو سالوں کی پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت گوادر بندرگاہ کو اس خطہ کی بہترین میری ٹائم بندرگاہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح 5.3 فیصد تھی جبکہ گذشتہ 9 سالوں میں ترسیلات زر اور صنعتی ترقی بلند ترین سطح پر رہی۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اب سرمایہ کاروں کیلئے بہترین سرمایہ کار دوست منزل ہے اور 20 کروڑ 70 لاکھ کی پرکشش مارکیٹ سرمایہ کاروں کیلئے دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں، بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی تارکین وطن سے کہا کہ وہ برطانوی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے مدعو کریں، حکومت انہیں مکمل سہولیات فراہم کرے گی۔

احسن اقبال نے پاکستانی تارکین وطن پر زور دیا کہ وہ آفیشل اور بینکنگ چینل کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ترسیلات زر پاکستان بھجوائیں اور اپنے مادر وطن میں سرمایہ کاری کیلئے اس کی ترقی میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ترجیحی بنیادوں پر انہیں درپیش مسائل حل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کو پرکشش بنانے اور برآمدات کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تارکین وطن پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ملک کی معاشی ترقی کا موجب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور حکومت کی جانب سے اپنائی گئی اچھی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی قابض افواج کی جانب سے انتہائی ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری بشمول برطانیہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو انصاف کی فراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اب ایک مضبوط اور مستحکم جمہوری ملک ہے۔ سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی خوشحالی کیلئے ضروری ہے۔ اس موقع پر زاہد حفیظ چوہدری نے وزیر داخلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے وژن 2025ء کی تشکیل اور سی پیک منصوبہ میں ان کے قائدانہ کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امریکہ کے کامیاب دورہ کے بعد واپس آئے ہیں اور پاکستانی ہائی کمیشن لندن میں پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات رکھی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وزیر داخلہ کا دورہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔

متعلقہ عنوان :