گڈ گورننس انتظامی نظم و نسق کی بہتری سے مشروط ہے یہی وجہ ہے کہ سرکاری محکموں کو فعال بنا کر عوامی امور کی انجام دہی کو آسان اور سہل بنانے کے لئے چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے،صوبائی وزیرمیر عامر خان رند

منگل فروری 23:10

کوئٹہ۔13فروری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) صوبائی وزیر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میر عامر خان رند نے کہا ہے گڈ گورننس کا قیام انتظامی نظم و نسق کی بہتری سے مشروط ہے یہی وجہ ہے کہ سرکاری محکموں کو فعال بنا کر عوامی امور کی انجام دہی کو آسان اور سہل بنانے کے لئے چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزراء کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو بھی کھلی کچہریوں کے انعقاد کے احکامات صادر کردئیے گئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا میر عامر خان رند نے کہا ہے کہ سرکاری امور میں خلاف ضابطہ امور قطعی برداشت نہیں کریں گے کیونکہ بنیادی رہنماء اصولوں سے انحراف تمام خرابیوں کی وجہ ہے اور اس سے پورا سسٹم متاثر ہوتا ہے انہوں نے کہا ہے کہ منتخب نمائندے بنیادی رہنماء رولز اینڈ ریگولیشن اور پالیسیز کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے تو ماتحت عملہ اور افسر شاہی ان سے ایک قدم آگے ہوگی اس لئے ہم نے میرٹ پر سختی سے عمل پیراں ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی واضح احکامات جاری کر دئیے ہیں انہوں نے کہا کہ عوامی امور کی انجام دہی میں غیر ضروری تاخیر قطعی برداشت نہیں کی جائے گی گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران جس سست روی سے کام ہوئے اس سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا اور عوام مشکلات کی دلدل میں دھنستے چلے گئے گزشتہ کوتاہیوں کا سو فیصد اضافہ تو ممکن نہیں تاہم ہماری کوشش ہے کہ دستیاب وقت میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں انہوں نیکہا کہ نصیر آباد زرعی یونیورسٹی کے قیام سے بلوچستان کے گرین بیلٹ میں زرعی شعبے میں نوجوانوں کو زرعی تعلیم اور تحقیقات کے مواقعے میسر آئیں گے جو ایک انقلابی تبدیلی ہے جس کا سہرا موجودہ صوبائی حکومت کے سر ہے انہوں نیکہا کہ عوام نے ہم سے جو توقعات وابستہ کر رکھی ہیں ان پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔