انسانی جان بچانے کے لیے روڈ سیفٹی سے آگاہی اور قوانین کی پابندی لازمی ہے، ڈاکٹر فتح محمد برفت

منگل فروری 23:20

حیدر آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد برفت نے کہا ہے کہ انسانی جان بچانے کیلئے روڈ سیفٹی سے آگاہی اور قوانین کی پابندی لازمی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ہائی وے موٹر وے پولیس اور ہنڈا اٹلس کے تعاون سے روڈ سیفٹی سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ جام شورو ٹول پلازہ کے نزدیک منعقد ہ سیمینار سے ایس ایس پی جام شورو عرفان بہادر،ایس ایس پی موٹروے سیکٹر تھری کرم اللہ سومرو نے بھی خطاب کیا۔

ملک میں دہشت گردی کی کاروائیوں سے زیادہ اموات شاہراہوں پر پیش آنیوالے حادثات میں ہوئی ہیں مجھے خود اپنے ادارے کے ہونہار طلبہ کی ٹریفک حادثے میں شہادت پر گہرا دکھ و افسوس ہے موٹر سائیکل سوار اگر فارمیسی اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے ہمارے یہ دو طلبہ ہیلمنٹ کا استعمال کرتے تو شاید ان کی جان بچ جاتی کیونکہ ہیڈ سرجری ایک مشکل آپریشن ہے جسم کے دیگر حصوں کی چوٹ بہتر ہو جاتی ہے لیکن سر یا دماغ کی چوٹ بہت حساس نوعیت کی ہو تی ہے اس لیے موٹر سائیکل سواروں کیلئے ہیلمنٹ کا استعمال لازمی ہو نا چاہئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ انسانی جان بچانے کے لیے روڈ سیفٹی سے آگاہی اور قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے دنیا میں حادثات ہو تے ہیں لیکن وہاں انسانی جانیں بہت کم ضائع ہو تی ہیں کیونکہ وہ قوانین اور روڈ سیفٹی پر عمل کرتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں اتنی اموات نہیں ہو ئی ہیں جتنی کے روڈ حادثات ہو ئی ہیں اور روز ہی حادثات ہو رہے ہیں انہوں نے کہاکہ سندھ یونیورسٹی میں 30طلبہ و طالبات پڑھتے ہیں ان میں 70فیصد طلبہ موٹر بائیک استعمال کرتے ہیں ہمارے پاس بسیں کم ہیں28ہزار طلبہ و طالبات یومیہ حیدرآباد سے سندھ یونیورسٹی جام شورو آتے ہیںہمار ان پر تین لاکھ روپے روزآنہ کا خرچ آتا ہے انہوں نے صوبائی حکومت کو کہا کہ سندھ یونیورسٹی کو ایک سو نئی بسوں کی ضرورت ہے تاہم سندھ یونیورسٹی جلد ہی موٹر بائیک چلانے والے طلبہ پر ہیلمنٹ کی پابندی لازمی قرار دے گی ایس ایس پی جام شورو عرفان بہاد ر نے بتایا کہ جام شورو پولیس نے انڈس ہائی وے پر ریسکیو ٹیمیں بنائیں ہیں جس میں6ایمبولینس اور فائربرگیڈ گاڑی اور امدادی کارکن موجود ہو تے ہیںایس ایس پی موٹر وے کرم اللہ سومرو نے کہا کہ موٹر وے ایم نائن سے یومیہ 60ہزار گاڑیاں گزررہی ہیں 136کلو میٹر کی اس شاہراہ پر موٹروے پولیس کے پاس صرف 10موبائل ہیں تاہم اسکے باوجود ہم کوشش کررہے ہیں کہ ٹریفک کا نظام بہتر ہو اسمیں عوام کو بھی تعاون کرنا ہو گاروڈ انجینئرنگ بہتر ہو نا چاہیئے ٹنڈو محمد خان روڈ پر گذشتہ روز جو حادثہ پیش آیا ہے وہاں سڑک تعمیر ہو رہی ہے لیکن متبادل راستہ نہیں دیا گیا سیمینار کے بعد ہنڈا اٹلس کی جانب سے ایک درجن سے زائد موٹر سائیکل سواروں میں مفت ہیلمنٹ تقسیم کئے گئے۔

متعلقہ عنوان :