آرٹیکل 62 ون ایف تشریح کیس کی سماعت مکمل ‘ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ فروری 12:17

آرٹیکل 62 ون ایف تشریح کیس کی سماعت مکمل ‘ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 فروری۔2018ء) نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نااہلی مدت کا تعین پارلیمنٹ ہی قانون سازی کے ذریعے کر سکتی ہے ۔اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ آئین میں 62 ون ایف کے تحت مدت کا تعین نہیں، نااہلی کی مدت کا معاملہ پارلیمنٹ کو حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نااہلی کا داغ بعض اوقات کسی کے مرنے کے بعد بھی رہتا ہے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جب تک پارلیمان قانون سازی نہیں کرتی تو ڈکلیئریشن موجود رہے گا۔ آئین میں نااہلی ڈکلیئریشن کو ری وزٹ یعنی (ختم) کرنے کا میکنزم بھی نہیں ہے۔اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی کسی جرم میں سزا پائے تو وہ بھی داغ ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوان :