سپریم کور ٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی مدت کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

آئین میں 62 ون ایف کے تحت مدت کا تعین نہیں، نااہلی کی مدت کا معاملہ پارلیمنٹ کو حل کرنا چاہیے ، نااہلی کا داغ بعض اوقات کسی کے مرنے کے بعد بھی رہتا ہے،جب تک پارلیمان قانون سازی نہیں کرتی تو ڈکلیئریشن موجود رہے گا ، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل کیا نااہل شخص ڈکلیریشن کے بعد آئندہ الیکشن لڑسکتا ہے ، کیا عدالت نااہلی کا فیصلہ دیتے وقت مدت کا تعین کرے گی یا نااہل امیدوار جب کاغذات نامزدگی داخل کرے گا تو مدت کا تعین کرے گا، کیا عدالت نااہلی کا فیصلہ دیتے وقت مدت کا تعین کرے گی،چیف جسٹس کااستفسار نااہلی کا داغ ختم ہوئے بغیر نااہلی تاحیات رہے گی، کیا نااہلی کی مدت کے تعین کیلئے نئی ترمیم نہیں کرنا ہوگی،جسٹس اعجاز الاحسن کیا ڈیکلریشن وقت کے ساتھ خود بخود ختم ہوجائے گی ، جسٹس عظمت سعید شیخ کے ریمارکس

بدھ فروری 12:37

سپریم کور ٹ  نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی مدت کیس کا فیصلہ محفوظ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 فروری2018ء) سپریم کور ٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی مدت کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بدھ کو آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نااہلی مدت کا تعین پارلیمنٹ ہی قانون سازی کے ذریعے کر سکتی ہے، اب سوال نااہلی کی مدت کے تعین کا ہے۔

(جاری ہے)

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ آئین میں 62 ون ایف کے تحت مدت کا تعین نہیں، نااہلی کی مدت کا معاملہ پارلیمنٹ کو حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نااہلی کا داغ بعض اوقات کسی کے مرنے کے بعد بھی رہتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جب تک پارلیمان قانون سازی نہیں کرتی تو ڈکلیئریشن موجود رہے گا۔ آئین میں نااہلی ڈکلیئریشن کو ری وزٹ یعنی (ختم )کرنے کا میکنزم بھی نہیں ہے۔اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 'اگر کوئی کسی جرم میں سزا پائے تو وہ بھی داغ ہوتا ہے۔۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ جب آئین میں مدت کا تعین نہیں تو نااہلی تاحیات ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو حل کرنا چاہیے، اس مقدمے میں سوال نااہلی کی مدت کا ہے، آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف میں مدت کا تعین نہیں کیا گیا، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ نااہلی کا داغ مجاز فورم یا مجاز عدالت ہی ختم کرسکتی ہے جب کہ نااہل کا داغ ختم ہوئے بغیر نااہلی تاحیات ہی رہے گی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نااہل شخص ڈکلیریشن کے بعد آئندہ الیکشن لڑسکتا ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نااہلی کی مدت کا تعین ہر کیس میں الگ الگ ہونا چاہیے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نااہلی کا فیصلہ دیتے وقت مدت کا تعین کرے گی یا نااہل امیدوار جب کاغذات نامزدگی داخل کرے گا تو مدت کا تعین کرے گا۔ جبکہ اٹارنی جنرل نے جسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس پر جواب دیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سزا کی مدت واضح نہیں ہے۔

واضح نہیں کہ صادق اور امین نہ ہونا صرف ایک الیکشن تک ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بہت سے کیسز ہیں آپ کو باہر نہیں جانے دے سکتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم کی پابندی کروں گا۔ نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کو کرنا ہے عدالت کو نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں سب سے پہلے نااہلی کی مدت سے متعلق دیکھنا ہے آئین میں مدت واضح نہیں تو نااہلی تاحیات ہوگی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے آج لندن جانا تھا مگر ہفتے کو جائوں گا،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو بیرون ملک جانے سے روک دیا انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کی جانب سے قانون سازی ہونے تک نااہلی برقرار رہے گی۔ جب تک کسی عدالت کا ڈیکلریشن نہ آجائے نااہلی برقرار رہے گی۔ سوال یہ ہے کہ نااہلی کی مدت کا اختتام کیسے ہوگا آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا نااہلی کا داغ اس شخص کی موت تک نہیں ہوگا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نااہلی کا داغ ختم ہوئے بغیر نااہلی تاحیات رہے گی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نااہل شخص ڈیکلریشن کے بعد اگلا الیکشن لڑ سکتا ہی اٹارنی جنرل نے کہا کہ نااہلی کی مدت کا تعین کیس ٹو کیس ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا عدالت نااہلی کا فیصلہ دیتے وقت مدت کا تعین کرے گی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریٹرننگ افسر عدالتی گائید لائن پر نااہلی کا تعین کرے گا۔

جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ کیا ڈیکلریشن وقت کے ساتھ خود بخود ختم ہوجائے گی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ڈیکلریشن از خود ختم نہیں ہوسکتا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا نااہلی کی مدت کے تعین کیلئے نئی ترمیم نہیں کرنا ہوگی اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت کے تعین کے لئے ترمیم ضروری ہے یہ معاملہ پارلیمنٹ کو حل کرنا چاہئے۔اس سے قبل کیس کی 12 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے غیر حاضری پر اٹارنی جنرل کو 20 ہزار روپے جرمانہ کیا تھا۔

اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جرمانہ اٹارنی جنرل اپنی جیب سے اداکریں گے۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ یہ کیس صرف نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے معاملے تک ہی محدود نہیں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عوامی نمائندوں کی نااہلی کی مدت کی تشریح کا بھی معاملہ ہے ۔ اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔