اسلام آباد کے جی سکس‘ جی سیون اور ایف سکس سیکٹر میں گھروں کی مرمت کیلئے 190ملین سالانہ گرانٹ ملتی ہے‘

خستہ حالت گھروں کی ترجیحی بنیادوں پر مرمت کی جاتی ہے‘ متعلقہ سیکٹرز میں مکینوں کو رہائش گاہیں الاٹ کرنے کا معاملہ زیر غور رہا ہے قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری کا توجہ دلائو نوٹس پر جواب

بدھ فروری 15:16

اسلام آباد کے جی سکس‘ جی سیون اور ایف سکس سیکٹر میں گھروں کی مرمت کیلئے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 فروری2018ء) قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے جی سکس‘ جی سیون اور ایف سکس سیکٹر میں گھروں کی مرمت کے لئے 190ملین سالانہ گرانٹ ملتی ہے‘ خستہ حالت گھروں کی ترجیحی بنیادوں پر مرمت کی جاتی ہے‘ متعلقہ سیکٹرز میں مکینوں کو رہائش گاہیں الاٹ کرنے کا معاملہ زیر غور رہا ہے۔

وہ بدھ کو قومی اسمبلی میں رکن خالدہ منصور‘ شکیلہ لقمان اور زیب جعفر کے توجہ دلائو نوٹس جواب دے رہے تھے۔ رکن خالد منصور نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس‘ جی سیون اور سیکٹر ایف سکس کے مکانات کی دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت بوسیدہ ہوگئی ہے حکومت اس پر توجہ دے۔

(جاری ہے)

اس پر وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ متعلقہ سیکٹرز میں رہائش گاہوں کی حالت کا اندازہ لگا کر مرمت کا فیصلہ کیا جاتا ہے خستہ حالت گھروں کی ترجیحی بنیادوں پر مرمت کی جاتی ہے۔

1990 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے رہائشیوں کے لئے مالکانہ حقوق دینے کا اعلان کیا تھا جس پر تاحال عمل نہیں کیا گیا تاہم یہ بات طے ہے کہ رہائش گاہوں کی مرمت پر اخراجات کے بعد قیمت میں اضافہ ہورہا ہے یہ بات بھی زیر غور رہی ہے کہ مناسب قیمت وصول کرکے رہائش گاہوں کو الاٹ کردیا جائے گھروں کی مرمت کے لئے سالانہ 190 ملین گرانٹ ملتی ہے جسے استعمال میں لایا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوان :