علاقائی امن واستحکام کے حوالے سے آرمی چیف کا بیان حقائق کی عکاسی کرتاہے‘ میاں مقصود احمد

پاکستان اورچین کے گردگھیراتنگ کرنے کیلئے امریکہ اور بھارت افغانستان میں اثرورسوخ بڑھارہے ہیں دشمن قوتیں پاکستان میں انتشار اور افراتفری کو پھیلاکر ہمیں اندر سے کمزور کرنا چاہتی ہیں‘ امیر جماعت اسلامی پنجاب

بدھ فروری 19:02

علاقائی امن واستحکام کے حوالے سے آرمی چیف کا بیان حقائق کی عکاسی کرتاہے‘ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 فروری2018ء) امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ جنوبی ایشیامیں پائیدار امن کے لیے افغانستان میں امن ناگزیر ہے،خطے کاامن افغانستان کے امن سے جڑا ہوا ہے ،جب تک ہندوستان کاامریکی سرپرستی میں افغانستان میں کردارختم نہیں کردیاجاتاخطے میں جنگ کے خطرات منڈلاتے رہیں گے، پاکستانی آرمی چیف کایہ کہنا کہ امن کاراستہ افغانستان سے گزرتا ہے بالکل درست اور حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روزلاہور میں مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ایک منظم سازش کے تحت دشمن قوتیں پاکستان اور چین کی ترقی کو روکنے کے لیے گھنائونے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف بھارتی حکمران کھلم کھلا دھمکیاں دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور خطے میں مثبت اورتعمیری سرگرمیوں کاخواہش مندہے مگر بدقسمتی سے بھارت کابڑھتاہواجنگی جنون اور انتہاپسندہندوئوں کی سازشیں اپنی تمام حدود پار کرچکی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان چین،سعودی عرب،ترکی،ایران،،افغانستان سمیت دیگر برداراسلامی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کوآگے بڑھائے اورمشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیاجائے۔یہودونصاریٰ اور ہندوئوں کی سازشوں کامقابلہ کرنے کے لیے متحدہوکرچلناضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت ایک دہشتگرد ریاست ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کے اندردہشت گردی کو سپورٹ کیا۔

انتشار اور افراتفری کو پھیلاکر وہ ہمیں اندر سے کمزور کرنا چاہتاہے۔۔بھارت کے افغانستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم بلاشبہ تشویش ناک ہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکی پالیسیاں جنوبی ایشیائی خطے میں طاقت کاتوازن بگاڑنے میں اہم کردار اداکررہی ہیں۔۔پاکستان پر ڈومور کادبائو اور بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کوازسرنوتشکیل دے۔ہمیں اپنے دوستوں اور دشمنوں کے درمیان تمیز کرنا ہوگی تب ہی جاکر ہم پُرامن ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہوسکتے ہیں۔