جو کچھ سیاسی حوالے سے ہو رہا ہے وہ جلد عوام کے سامنے آجائے گا،میئر کراچی

کراچی کا میئر ہوں سیاسی پارٹی سے ضرور انتخاب لڑا ہوں لیکن اب ہر زبان ، رنگ و نسل اور ہر علاقے کا میئر ہوں،وسیم اختر کی میڈیا سے بات چیت

بدھ فروری 19:27

جو کچھ سیاسی حوالے سے ہو رہا ہے وہ جلد عوام کے سامنے آجائے گا،میئر ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 فروری2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ عملاً کام کرکے دکھائیں گے جو کچھ سیاسی حوالے سے ہو رہا ہے وہ جلد عوام کے سامنے آجائے گا، کراچی کا میئر ہوں سیاسی پارٹی سے ضرور انتخاب لڑا ہوں لیکن اب ہر زبان ، رنگ و نسل اور ہر علاقے کا میئر ہوں، پورے کراچی کی امیدیں ہم سے وابستہ ہیں، حالات خواہ کیسے بھی ہوں شہریوں کی خدمت کا سفر جاری رہے گا، کراچی کے شہریوں کو درپیش مشکلات حل کرنے کے لئے جو بھی ممکن ہوا کریں گے، تمام بلدیاتی نمائندے پرعزم ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی بھرپور نگرانی کر رہے ہیں، ہمارا مقصد کراچی کو ایک بہتر شہر بنانا ہے جہاں شہریوں کو تمام تر بلدیاتی سہولیات میسر ہوں،یہ بات انہوں نے بدھ کی سہ پہر نارائن پورہ میں میگھ جی بھگوان جی بلڈنگ کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر آباد کے سینئر وائس چیئرمین ایاز الیاس، راحیل رپنچ اور اویس تھانوی کے علاوہ سٹی کونسلر چمن لال کھیم جی باریہ، ڈائریکٹر جنرل ورکس شہاب انور،سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن مسعود عالم، سینئر ڈائریکٹر اسٹیٹ تسنیم صدیقی، چیف فائر آفیسر تحسین الرحمن اور دیگر افسران بھی موجود تھے، نارائن پورہ آمد پر ہندو برادری کے معززین نے میئر کراچی کو گلدستہ پیش کیا اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا گیا، میئر کراچی نے سوامی نارائن میں میگھ جی بھگوان جی سینٹر کا دورہ بھی کیا، اس موقع پر ہندو برادری کے ارکان نے میئر کراچی کو اس سینٹر کی خستہ حالی سے آگاہ کیا اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ کسی بھی وقت کوئی حادثہ رونما ہوسکتا ہے لہٰذا اس علاقے کی فوری بحالی اور مرمت کے کام کرائے جائیں، میئر کراچی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،گنجان آبادی میں رہائش پذیر لوگوں کی جان و مال کو بچانے کے لئے نارائن پورہ میں واقع مخدوش عمارت کے گرنے کا خطرہ ہے لہٰذا اس عمارت کو مکمل مسمار کرنا ہوگا ، عمارت میں مقیم خاندانوں کو دیگر محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا، بحالی کے کاموں میں ’’آباد‘‘ہماری مدد کرے گا، انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں، بلدیاتی نمائندوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے مسائل بلاتفریق حل کرائیں، انہوں نے کہا کہ میں آپ کا بھی اتنا ہی میئر ہوں جتنا کسی اور شہری کا اور آج آپ کی شکایت پر یہاں آیا ہوں اور اپنے ساتھ متعلقہ افراد کو بھی لایا ہوں تاکہ آپ کے مسائل جلد از جلد حل کئے جاسکیں، میئر کراچی نے کہا کہ اس عمارت کو 2007 میں خطرناک قرار دیا جاچکا تھا جہاں 63 فلیٹس میں متعدد خاندان آباد ہیں اور اس بلڈنگ کی حالت نہایت خستہ ہوچکی ہے لہٰذا میں خود صورتحال کا جائزہ لینے اور بحالی کے کاموں کے لئے یہاں پہنچا ہوں، ماضی میں اس عمارت میں رہائش پذیر بعض خاندانوںکو گٹر باغیچہ منتقل کیا گیا تھا جو لوگ یہاں ابھی تک رہائش پذیر ہیں انہیں بھی متبادل اور محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لئے سروے کا کام شروع کردیا گیا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ یہ گنجان آبادی ہے اس لئے ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے،ہم اپنے وسائل سے اور دیگر اداروں کے تعاون سے اس کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے ، میئر کراچی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ہم کسی خوف کا شکار نہیں، کل کے اجلاس میں کے ایم سی کونسل کے ارکان کو بلانے کا مقصد ترقیاتی کاموں کو اسی رفتار سے جاری رکھنا اور شہر کی بہتری اور ترقی کے لئے کام کرنا تھا، ہماری پوری کوشش یہی ہے کہ تمام معاملات حل ہوجائیں اور شہر میں تعمیر و ترقی کا سفر جاری و ساری رہے۔