ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی

باجوہ ڈاکٹرائن امریکی دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے، برطانوی تھنک ٹینک اب پاک فوج کو نہیں بلکہ دنیا کو مزید اقدامات کرنا ہیں، دہشت گردی کے خلاف مسلسل مہمات اور مشرقی سرحد کے حالات نے فوج کو پہلے سے زیادہ سخت جان بنا دیا ہے، رپورٹ

ہفتہ فروری 19:53

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی
لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2018ء) برطانوی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کا جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈاکٹرائن امریکی دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی۔برطانیہ کے معروف تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ جنرل باجوہ کی زیر کمان پاک فوج امریکی انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے اور جنرل پرویز مشرف کے دور کے مقابلے میں زیادہ پٴْر اعتماد ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق باجوہ ڈاکٹرائن میں واضح کردیا گیا ہے کہ اب پاک فوج کو نہیں بلکہ دنیا کو مزید اقدامات کرنا ہیں، دہشت گردی کے خلاف مسلسل مہمات اور مشرقی سرحد کے حالات نے فوج کو پہلے سے زیادہ سخت جان بنا دیا ہے۔

(جاری ہے)

رائل یونائیٹڈ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق روس، چین، ترکی اور ایران پاکستان کے دفاع کے لیے سامنے آ چکے ہیں اور امریکا اسلام آباد پر اپنی گرفت کھو چکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی انتظامیہ نے جنرل باجوہ کو پرویز مشرف سمجھ کر غلطی کی ہے جو امریکی دھمکی پر ڈھیر ہو گئے تھے، جبکہ جنرل باجوہ نے امریکا کی تمام دھمکیوں اور درخواستوں کا ڈٹ کر جواب دیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے مزید اقدامات کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق افغان جنگ میں کردار ادا کرنے والے امریکا کے اسلام آباد میں سابق اسٹیشن چیف ملٹ بیئرڈن اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اعتراف کرتی ہیں کہ افغان مسئلے کی ذمہ داری صرف پاکستان پر ڈالنا درست نہیں، پاکستان نے افغانستان سے متعلق اپنے تمام وعدے پورے کئے ہیں اس لیے پاکستان کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ حقیقت سے روگردانی کے مترادف ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک میں کہا گیا ہے کہ اب پاک فوج امریکی فوجی امداد میں کٹوتی اور سرحد پار سے امریکی کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔رائل یونائیٹڈ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2018 کے آغاز کے بعد پاکستان کو امریکا کی نہیں بلکہ امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے، اور امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس کا بیان بھی اس کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ پاک فو ج کے ساتھ رابطے میں ہیں کیونکہ اس کے بغیر امریکی فوج زمین سے گھرے ہوئے افغانستان میں اپنا اسلحہ بھی نہیں پہنچا سکتی۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے ٹوئٹ سے اگر کچھ ہوا ہے تو وہ یہ کہ پاکستان کو یہ احساس ہو گیا کہ گزشتہ 70 سال تک امریکا پر اعتبار کر کے اس نے غلطی کی تھی۔