جہاں جرم ہوا ہو وہاں مجرم کوسزا دی جاسکتی ہے

پراسیکیوشن پنجاب کا سرعام پھانسی کیلئے صوبائی حکومت کوتجاویزدینے کافیصلہ پراسیکوٹرجنرل پنجاب کل وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کریں گے او ر اس حوالے سے اپنی سفارشات دیں گے

ہفتہ فروری 21:19

جہاں جرم ہوا ہو وہاں مجرم کوسزا دی جاسکتی ہے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2018ء) پراسیکیوشن پنجاب نے سرعام پھانسی کیلئے صوبائی حکومت کوتجاویزدینے کافیصلہ کیا ہے ، اس سلسلے میں پراسیکوٹرجنرل پنجاب کل وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کریں گے او ر اس حوالے سے اپنی سفارشات دیں گے۔پراسیکیوشن پنجاب کے مطابق جہاں جرم ہوا ہو وہاں مجرم کوسزا دی جاسکتی ہے،انسداددہشت گردی ایکٹ کے مطابق سزاکیلئے جگہ تبدیل کی جاسکتی ہے۔

پراسیکیوشن پنجاب کا موقف ہے کہ سرعام پھانسی دینے کیلئے قانون میں ترمیم کی ضرورت نہیں، قانونی تقاضوں کے بعدمجرم کوسرعام پھانسی دی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے قصور میں ننھی زینب زیادتی وقتل کیس میں نامز د ملزم عمران علی کوجرم ثابت ہونے پر چار مرتبہ سزائے موت سنائی ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب فیصلہ آنے کے بعد زینب کی والدہ نے مطالبہ کیا تھا کہ فیصلے سے مطمئن نہیں مجرم کو سر عام سزا دی جائے ، حکومت سے اپیل ہے کہ چھوٹی پچیوں کے تحفظ کے لیے قانون بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں سے زینب کو اغوا کیا گیا اسی جگہ پر اسے بھی سزا دی جائے ، عمران صرف زینب کا نہیں بلکہ دیگر بچیوں کا بھی قاتل ہے۔خیال رہے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف لاہور میں مجرم کی گرفتاری کے بعدپریس کانفرنس کے دوران کہ چکے ہیں کہ اگر کوئی قانونی مجبوری نہ ہوتو اسے سرعام سزا دی جائے۔

متعلقہ عنوان :