شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز: نیب کی درخواست پر واجد ضیاء ریکارڈ سمیت طلب

22 فروری کو پیش ہونے کا نوٹس جاری،غیرملکی گواہوںکے بیانات بھی آئندہ سماعت پر بذریعہ ویڈیو لنک قلمبند کیے جائیں گے ریفرنسز میں نامزد ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو بھی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت

پیر فروری 14:26

شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز: نیب کی درخواست پر واجد ضیاء  ریکارڈ سمیت ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 فروری2018ء) احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں نیب کی درخواست پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے پاناما لیکس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیاء کو اصل ریکارڈ کے ساتھ 22 فروری کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

نیب نے درخواست میں استدعا کی کہ ویڈیو لنک کے ذریعے 2 غیرملکی گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے لئے اصل ریکارڈ ضروری ہے اس لئے آئندہ سماعت پر جے آئی ٹی کے سربراہ کو اصل ریکارڈ سمیت طلب کیا جائے۔جس پر عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیائ کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے ریفرنسز میں نامزد ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بھی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ نیب کی جانب سے 22 جنوری کو نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے 5 افراد کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا جس میں استغاثہ کی جانب سے دو غیر ملکی گواہ شامل ہیں۔غیرملکی گواہوں میں رابرٹ ریڈلی اور اختر راجہ شامل ہیں جن کے بیانات آئندہ سماعت پر بذریعہ ویڈیو لنک قلمبند کیے جائیں گے۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا۔العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا۔